زمان پارک ممکنہ آپریشن عدالت نے عمران خان کو ہراساں کرنے سے روک دیا

19 اپریل ، 2023

لاہور ( نیوز ایجنسیاں) لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پولیس کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔دوران سماعت ایک موقع پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ خان صاحب باتیں بہت سن چکے، نئی بات کریں، قوم کو مستقبل کا پلان دیں۔ ہائیکورٹ میں عمران خان کی ایک ہی نوعیت کے مقدمات درج کرنے کیخلاف اور ممکنہ زمان پارک آپریشن روکنے کی درخواست پر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نےسماعت ہوئی۔ عمران خان عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ اس درخواست میں ہمیں کچھ فوری نوعیت کا نظر نہیں آیا، ماضی قریب میں ہم نے زمان پارک کے باہر بہت افسوسناک صورتحال دیکھی ہے۔ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلطان صفدر نے دلائل دیئے کہ عمران خان کے خلاف ایک کے بعد ایک کیس درج ہو رہا ہے ، پنجاب میں عمران خان کیخلاف 80 کیسز درج کئے گئے ہیں، عدالتیں پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کو روک سکتی ہیں، ہمیں انفارمیشن ملی ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران کوئی آپریشن ہو سکتا ہے، پانچ دن کیلئے ہمیں ریلیف دے دیں کیونکہ پانچ دن کیلئے عدالتیں اور انصاف کے دروازے بند ہونگے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ انصاف کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار ایسا ریلیف مانگ رہا ہے جسکی بنیاد صرف خدشات ہیں، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق کوئی آپریشن پلان نہیں کیاگیا لیکن مختلف کیسز میں جے آئی ٹیز بنی ہیں اگر کوئی شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کرینگے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر درخواست گزار ضمانت پر ہیں تو پھر آپ انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتے، آپ عید کے دنوں میں کچھ نہیں کرینگے۔ عمران خان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ان کی باتوں سے مجھے اب کنفرم ہوگیا ہے یہ ایکشن لینگے، میں نے شورٹی بانڈ دیا اور اسلام آباد گیا لیکن انہوں نے میرے گھر پر حملہ کیا، مجھے اطلاع ہے انہوں نے میرے گھر ایکشن کرنا ہے۔ جسٹس انوار الحق نے کہا کہ اپنی اپنی باری پر ہر کوئی تشدد کرتا ہے، عید کا موقع ہے ایک دوسرے کو گلے ملیں۔ عمران خان نے کہا کہ یہ قوم مجھے پچاس سال سے جانتی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ خان صاحب آپکی یہ باتیں ہم بہت بار سن چکے ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ کوئی نئی بات کریں قوم کو مستقبل کا پلان دیں۔ لارجر بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو ہراساں کرنے سے روکدیا اور ہدایت کی کہ پنجاب حکومت کے وکیل کے بیان کی روشنی میں کیس کی سماعت تک سائل کیساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائیگا۔ ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی درخواست دو مئی کو سماعت کیلئے مقرر ہے۔