سپریم کورٹ نے غیرضروری خود کو الیکشن کے معاملہ میں گھسیٹا ،احسن بھون

19 اپریل ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میرسے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیرضروری طور پر خود کو الیکشن کے معاملہ میں گھسیٹا ہے، تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ملک کو اپنی خواہشات کے تابع چلانے کی کوشش میں ملک تباہی کے گڑھے میں گرتا چلا جارہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے صدر نوید ملک نے کہا کہ وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی جنگ لڑی ہے، موجودہ صورتحال میں معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیرضروری طور پر خود کو الیکشن کے معاملہ میں گھسیٹا ہے، آرٹیکل 224کی تشریح یہی ہوسکتی ہے کہ الیکشن 90دن میں ہونا چاہئیں، جسٹس جواد الحسن نے 90دن میں انتخابات کا حکم دیا اس پر حکومت نے اپیل دائر کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دو ججوں کی درخواست پر اس معاملہ پر ازخود نوٹس لے لیا، وکلاء برادری کے کچھ بڑے اپنی ذاتی خفت مٹانے کیلئے سپریم کورٹ کو محاذ آرائی میں لارہے ہیں۔ احسن بھون کا کہنا تھا کہ ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی سب احسان فراموش لوگ ہیں، جنرل باجوہ انگلی پکڑ کر پہلے پی ٹی آئی پھر ن لیگ کو اقتدار میں لائے، یہ سب جنرل باجوہ کے فیڈر سے دودھ پی کر جوان ہوئے ہیں، موجودہ حکومت اور پچھلی حکومت کو جنرل باجوہ پر الزامات لگاتے شرم آنی چاہئے۔ احسن بھون نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کے بیان سے ثابت ہوگیا کہ اس وقت جنرل باجوہ اور عدلیہ کے برسرمسند لوگ ایک صفحہ پر تھے، پی ٹی آئی کو انکیوبیٹر سے جوانی تک لانے والے جنرل باجوہ ہیں، پی ٹی آئی کو ہٹا کر موجودہ حکومت لانے والے بھی جنرل باجوہ ہیں، سیاسی جماعتیں جنرل باجوہ کو توسیع بھی دیتی ہیں پھر سارا الزام بھی انہی پر لگادیتی ہیں ان سے کون پوچھے گا، جنرل باجوہ اتنے ناکام شخص تھے تو انہیں چھ سال کیوں دیئے گئے، جنرل باجوہ سیاسی جماعتوں کو اپنی انگلی سے چلاتا رہا۔ احسن بھون کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نے منتخب نمائندوں سے ہٹ کر چار وکیل جمع کیے اور گول مول کانفرنس کرلی، وکلاء کو اپنی نمائندہ تنظیموں کے منتخب نمائندوں کی بات ماننی چاہئے، چیف جسٹس تمام جج صاحبان کو اکٹھے بٹھا کر معاملات حل کریں، کسی ایک کیس کیلئے اسپیشل بنچ بنانے کے بجائے ریگولر بنچوں میں کیوں نہیں لگایا جاتا، ہم نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی یوم سیاہ منایا گیا۔احسن بھون نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمٰن جس احساس محرومی کا اظہار کررہے ہیں وہ ریاست کیلئے نقصان دہ ہے، عدلیہ سمیت تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو محروم طبقات کوا نصاف مہیا کرنا ہوگا۔تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ آئین کے تحت 90دن میں الیکشن ہونا ضروری ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملی بھگت سے عملدرآمد رکوایا گیا،حکمراں اتحاد الیکشن رکوانے کیلئے جو کررہا ہے اتنی ان کی ہمت نہیں ہے ، اس کے پیچھے کون ہے کٹھ پتلیوں کو نچانے اور ملک کے نظام کو برباد کرنے والا کون ہے، پاکستان کو جس طرح چلایا جارہا ہے اس طرح پرچون کی دکان کے معاملات نہیں چلتے ہیں، ملک کو اپنی خواہشات کے تابع چلانے کی کوشش میں ملک تباہی کے گڑھے میں گرتا چلا جارہا ہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی مہذب ملک میں ریاست کا ایک ستون اس طرح دوسرے ستون پر حملہ آور نہیں ہوتا، احسن بھون سمیت کوئی بھی وکلاء کا نمائندہ آئین و قانون کے خلاف بات کرے تو اختلاف کرنا سب کا حق ہے، اعتزاز احسن کی گول میز کانفرنس بہت کامیاب تھی، الیکشن کی بات ہو تو بارز کا کام آئین کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل بل لانے کی ٹائمنگ اہم ہے، وکلاء تنظیمیں پہلے وکلاء کے مسائل حل کریں، وکلاء پاکستان بار کونسل کی ہر بات پر آمین نہیں کہہ سکتے۔فیصل چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کے بغیر آئینی ترمیم ممکن نہیں ہے، آئینی ترمیم کیلئے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں لانا پڑے گا، وہ کون ہے جو عدالتی احکامات کے باوجود پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں نہیں آنے دے رہا، مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کردیا ہے، مذاکرات کیلئے سازگار ماحول حکومت نے بنانا ہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب سے بلوچستان جانے والے قیدیوں کو بلوچ ججوں نے انصاف دیا، مولانا ہدایت الرحمٰن نے پنجابیوں کا نام لیا لیکن اس کے پیچھے کون ہے اس کا کیوں نہیں بتایا، عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کیلئے جدوجہد کا وقت آگیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے صدر نوید ملک نے کہا کہ آئین واضح ہے اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں 90دن میں الیکشن ہونے چاہئیں، سپریم کورٹ نے بلاوجہ خود کو الیکشن کے معاملہ میں ملوث کیا ہے، لاہور ہائیکورٹ 90دن میں انتخابات کروانے کاحکم دے چکی تھی جس پر اپیل زیرالتوا تھی، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی خواہش پر ازخود نوٹس لیا اس پر اختلاف ہے، سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ نوید ملک کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو کبھی کوئی خرابی پیدا نہ ہو، پارلیمنٹرین کی سپریم کورٹ کے ججوں کو کمیٹی میں طلب کرنے کی دھمکی مناسب نہیں ہے، وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی جنگ لڑی ہے، موجودہ صورتحال میں معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں، اداروں کے تصادم میں نقصان پاکستان کا ہوگا، الیکشن کیلئے رقم نہ جاری کرنے کی منظوری پارلیمنٹ نے دی ہے، کیا سپریم کورٹ پوری پارلیمان کو توہین عدالت میں نااہل کرے گی۔مولانا ہدایت الرحمٰن کے عدلیہ سے شکوہ پر نوید ملک نے کہا کہ یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے اس پر ہمیں سوچنا چاہئے، بلوچستان میں پہلے ہی بہت زیادہ احساس محرومی پایا جاتا ہے، یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ کسی خاص شخص یا سیاسی جماعت کیلئے انصاف کا معیار کچھ ہے دوسری پارٹی کیلئے کچھ اور ہے، عدلیہ کو مضبوط بنانا ہے تو ججوں کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔