سوڈان،فوجی کمانڈروں کا 24گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق

19 اپریل ، 2023

کراچی (نیوزڈیسک)سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں شدید لڑائی کے بعد حریف فوجی کمانڈروں نے منگل کی شام سے24گھنٹے کی جنگ بندی پراتفاق کیا ہے۔انھوں نے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن سے فون پرگفتگو کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے رکن جنرل شمس الدین قباشی نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے شروع ہوگی اور طے شدہ 24 گھنٹوں سے آگے نہیں بڑھے گی۔امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے آرمی چیف اور نیم فوجی سریع الحرکت فورس (آر ایس ایف) کے سربراہ سے الگ الگ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ان دونوں فورسزکے درمیان طاقت کی کشمکش میں 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دہائیوں کی آمریت اور فوجی حکمرانی کے بعد سویلین انتقال اقتدارکے لیے بین الاقوامی حمایت یافتہ معاہدے کو پٹڑی سے اتار دیا گیا ہے۔خبر رساں ادارے کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ سوڈان کے دارالحکومت میں منگل کو چوتھے روز بھی فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں اور اس کے ساتھ ہی جنگی طیاروں اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دریائے نیل کے دوسری جانب خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان کے رہائشیوں نے بھی فضائی حملوں کی اطلاع دی جس سے عمارتیں لرزاٹھیں اور آگ بھڑک اٹھی۔بلنکن نے کہا کہ پیر کے روز آر ایس ایف سے وابستہ جنگجوؤں کے حملے میں امریکا کے ایک سفارتی قافلے پر فائرنگ کی گئی اور قافلے میں شامل تمام افراد محفوظ رہے۔ انھوں نے اس واقعے کو ’’غیرذمے دارانہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکی سفارت کاروں پر کوئی بھی حملہ یا دھمکی ناقابل قبول ہے۔بلینکن نے جاپان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آر ایس ایف کے رہنما جنرل محمد حمدان دقلوالمعروف حمیدتی اور سوڈان کے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان دونوں کو ٹیلی فون کیا ہے اور 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ سوڈانی محفوظ طریقے سے اپنے اہل خانہ سے مل سکیں اورانھیں ریلیف مہیا کیا جا سکے۔اقوام متحدہ کے مندوب وولکرپرتھس نے کہا ہے کہ سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان ہفتے کے روز شروع ہونے والی لڑائی میں 185 افراد ہلاک اور 1800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔آر ایس ایف کے سربراہ حمیدتی نے، جن کے ٹھکانے کا انکشاف لڑائی شروع ہونے کے بعد سے نہیں کیا گیا ہے،کہاکہ انھوں نے بلینکن کے ساتھ اپنی کال کے دوران ’’اہم امورپرتبادلہ خیال‘‘ کیا تھا اور مزید بات چیت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ٹویٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ آر ایس ایف نے 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی منظوری دی ہے۔ آر ایس ایف نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ "اپنے لوگوں کے حقوق" کی بحالی کے لیے مسلسل جنگ لڑ رہی ہے۔دوسری طر ف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سوڈان کے متحارب دھڑوں کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ انہیں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس لڑائی میں اب تک کم سے کم 185 افراد ہلاک اور 1800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے 18 اپریل منگل کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سوڈان میں حریف مسلح افواج کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے اور فوری طور پر جنگ بندی پر زور دیا۔محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ بلنکن نے مسلسل اور اندھا دھند لڑائی کی وجہ سے بہت سے سوڈانی شہریوں کی ہلاکت اور ان کے زخمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے، ʼلڑائی سے متاثرہ افراد تک انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی سوڈانی خاندانوں کو دوبارہ متحدہونے کا موقع ملے گا۔ اس سے خرطوم میں بین الاقوامی برادری کی محفوظ موجودگی کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اواخر ہفتہ سوڈان کی عبوری حکومت کی خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے وفادار فورسز اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے سربراہ محمد ہمدان داگلو کی حامی فورسز کے درمیان تصادم شروع ہو گیا تھا، جو اب بھی جاری ہے۔