کینیا کا ارشد شریف قتل کیس میں پاکستان سے مزید تعاون سے انکار

19 اپریل ، 2023

لندن / نیروبی (مرتضیٰ علی شاہ ) کینیا کی حکومت نے ارشد شریف قتل کیس میں پاکستان کے ساتھ مزید تعاون سے صاف انکار کردیا ہے پاکستانی حکام نے کینیا کے دفتر خارجہ سے کینیا میں ارشد شریف قتل کی نئے سرے سے تفتیش کی اجازت طلب کی تھی لیکن پاکستان اور کینیا میں ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کینیا کی حکومت نے5 سے زیادہ مرتبہ پاکستان پر یہ واضح کردیا ہے اس نے کافی تفتیش کرلی ہے اور اب اپنے ملک میں کسی نئی تفتیش کی اجازت نہیں دے گی ۔کینیا کی حکومت نے پاکستانی حکام کو بتایا ہے کہ اس نے 2 پاکستانی تفتیش کاروں انٹیلی جنس بیورو کے عمر شاہد حامد اور ایف آئی اے ڈاکٹر اطہر وحید کی ہر ممکن مدد کی اور اب وہ دوبارہ ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔کسی نئی تفتیش سے کوئی مختلف نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ہم نے پاکستان کی جتنی مدد کرسکتے تھے کردی ہے۔کینیا کے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کینین حکومت ،پولیس اور انٹیلی جنس سروسز عمر شاہد حامد اور ڈاکٹر اطہر وحید کی رپورٹ سے کینیا کی پولیس کی صلاحیتوں ،غیر پیشہ ورانہ طریقہ کار اور تبدیل ہوتے ہوئے بیانات ،قتل کے ایک واضح کیس پر پردہ ڈالنے اور کینیا کی حکومت کی جانب سے قتل کے اس واقعہ کی مناسب طریقے سے تفتیش کرنے کے حوالے سے بے دلی کے بارے میں اخذ کئے گئے نتائج سےبہت پریشان ہیں۔ تین ہفتے قبل جیو اور دی نیوز نے انکشاف کیاتھا کہ کینیا کی حکومت کی تفتیش میں اس بات پر اصرار کیا گیاہے کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف کو شناخت کی غلطی سے قتل کیاگیا اور اس قتل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔کینیا کی حکومت کی رپورٹ میں (جو ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے )کہاگیاہے کہ ارشد شریف کو جنرل سروس یونٹ کی پیرا ملٹری کے 4 ارکان نے اچانک فائرنگ کرکے قتل کیا کیونکہ ان کا ڈرائیور خرم احمد سڑک کی بندش پر نہیں رکا تھا اور قتل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔پاکستان کی اس وقت کینیا کی حکومت سے پاکستانی حکومت کو یہ رپورٹ دینے کامطالبہ کررہی ہے لیکن کینیا کی حکومت نے اس سے انکار کردیا۔پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیا ل کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن ،جسٹس منیب اختر ،جسٹس جمال خاں مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ایک 5 رکنی بینچ نے از خود نوٹس کے تحت کیس کی سماعت کے بعد نئے سرے سے تفتیش کا حکم دیاتھا۔اس وقت سے پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کئی مرتبہ کینیا کی حکومت کو لکھا لیکن کینیا کی حکومت نے جواب دیا کہ ضروری تعاون کیاجاچکاہے اور سپریم کورٹ پاکستان کا حکم پاکستان کا اندورنی معاملہ ہے۔ارشد شریف کے قتل کی تفتیش کیلئے پاکستان کے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے فروری کے دوسرے ہفتے میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ کینیا کے دورے میں کھوئی ٹھوثبوت نہیں مل سکا ٹیم نے کینیا کی حکومت کی جانب سے تعاون کے فقدان کا بھی ذکر کیاتھا۔اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر کینیا بھیجی جانے والی ٹیم کوکام نہیں کرنے دیاگیا اور کہاگیاکہ اگر انھوں نے حدود سے تجاوز کیا تو یہ مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ کینیا کے ذرائع کے مطابق پاکستانی تفتیش کار جائے وقوعہ ایمو ڈمپ کیمپ اور اس فلیٹ پر جانا چاہتے تھے جہاں ارشد شریف مقیم تھے لیکن ان سے کہاگیا کہ ان میں سے کسی بھی جگہ ان کاجانا ممکن نہیں ہے اورکینیا کا کوئی افسر پاکستانی تفتیش کاروں کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا ۔اس کے بعد سے پاکستان کے دفتر خارجہ نےکینیا کے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور کینیا کی وزارت خارجہ کو مدد کیلئے لکھا لیکن پاکستان سے صاف صاف کہہ دیاگیاکہ کوئی مدد نہیں کی جاسکتی۔ارشد شریف کی فیملی ،دوست اور پاکستانی میڈیا کا خیال ہے کہ سینئر صحافی کو کینیا میں منظم منصوبہ بندی کے تحت ہلاک کیاگیا۔