قصہ پاکستان کے 75سال پر جاری 75 روپے کے کرنسی نوٹ کا

29 اپریل ، 2023

اسلام آباد (فاروق اقدس/خصوصی رپورٹ) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ 75روپے کا نوٹ عوامی لین دین کیلئے قابل استعمال ہے اور تمام کمرشل بینک بھی 75 روپے کے نوٹ استعمال کر رہے ہیں، حکومت کو یہ وضاحت جاری کرنے کی یہ ضرورت کیوں پیش آئی اس کی وجہ اس کی مالیت اور عوامی سطح پر آگاہی کا فقدان بھی ہے جس باعث پاکستان کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے پر اجراء کئے جانے والے اس نوٹ سے لوگوں کی لاتعلقی اور اجنبیت نے اس کے استعمال کو انتہائی محدود کردیا ہے۔ 30 ستمبر 2022کو اجراء کئے جانے والے اس نوٹ کو عوامی لین دین کیلئے عام کردیا گیا تھا لیکن تقریباً سات ماہ ہونے کو آئے ہیں ابھی تک بالخصوص خریدوفروخت میں ان نوٹوں کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ دکاندار گاہکوں سے یہ نوٹ لینے سے انکار کی حد تک گریز کرتے ہیں اس طرح دیگر صارفین بھی یہ نوٹ لینے پر آمادہ نہیں ہوتے، پٹرول پمپس پر 75 روپے کے نوٹ کا لین دین تقریباً بند ہی ہے کیونکہ وہ پٹرولیم مصنوعات کے لیٹرز کی مجموعی رقم کی وصولی اور ادائیگی کیلئے حساب میں پیچیدگی اور الجھن محسوس کرتے ہیں اور کم وبیش یہی حال گھریلو خواتین کا ہے جو روزمرہ کا سودا سلف خریدتی ہیں جبکہ ناخواندہ لوگ تو اپنی لاعلمی کے باعث اسے جعلی نوٹ بھی قرار دیتے ہیں حتیٰ کہ بینک سے بھی یہ نوٹ لینے سے انکار کردیتے ہیں اس کی گنتی میں بھی عام لوگوں کو انتہائی دشواری پیش آتی ہے، پھر اے ٹی ایم ) میں یہ نوٹ اس لئے دستیاب نہیں کیونکہ اس نظام میں 500 روپے کم مالیت کی رقم حاصل نہیں کی جاسکتی اس لئے 500 کا نوٹ اس مشین میں سب سے کم مالیت کا ہے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ عوام کی اس نوٹ سے غیرمانوسیت اور استعمال میں تذبذب پایا جاتا ہے کیونکہ جب زندگی کے عام اور لازمی شعبوں میں اس کرنسی نوٹ کا لین دین ہی نہیں ہو رہا تو پھر اس کے حصول کا کیا فائدہ۔ اسٹیٹ بینک نے اس مرتبہ عید کے موقعہ پر صرف 75 روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کئے تھے تاکہ عیدی کے طور پر ان نوٹوں کا استعمال ان کی قبولیت اور مانوسیت کا سبب بن سکے لیکن یہ اطلاعات بھی عام ہیں کہ بچوں نے اسے جعلی نوٹ قرار دے کر والدین کی جانب سے عیدی کے نام پر اسے بے وقوف بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اس لئے ضروری ہے کہ سٹیٹ بینک زیادہ دیکھے جانے والے بڑے چینلز اور بڑے اخبارات میں اس کی مناسب تشہیر کرے تاکہ لوگوں کا ان نوٹوں پر تذبذب ختم اور اعتماد بحال ہو اور وہ بلاجھجک اپنے لین دین میں اسے استعمال کریں۔ 30 ستمبر 2022 کو اجراء کئے جانے والے اس نوٹ پر موقعے کی مناسبت سے قائداعظم علامہ اقبال محترمہ فاطمہ جناح اور سرسید احمد خان کی تصاویر موجود ہیں جبکہ عقبی حصے پر مارخور کی ۔ ابتداء میں یہ شکایات بھی سامنے آئی تھیں کہ دیگر کرنسی نوٹوں کی طرح 75 روپے کے نوٹ پر ’’رزق حلال عین عبادت ہے‘‘ درج نہیں تاہم غور سے دیکھنے میں پتہ چلتا ہے کہ ایک چھوٹے سے دائرے میں یہ تحریر باریک لفظوں میں موجود ہے جس پر لوگوں نے مختلف انداز سے تنقید کی۔ پھر عقبی حصے پر مارخور کی تصویر پر بھی اعتراضات آئے، مارخور (پہاڑی بکرا) چونکہ پاکستان کا قومی جانور قرار پایا ہے اور عام لوگوں کی لاعلمی اور عدم دلچسپی کے باعث انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں اس لئے اس اعتراض کا بھی کوئی جواز نہیں اور وہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ مارخور ایک نایاب جانور ہونے کے ساتھ ساتھ بہادری، سخت جان اور بدترین سرد موسم سے لڑنے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے البتہ کچھ عرصہ قبل ایک ریٹائرڈ شخصیت میں ان خوبیوں کو تلاش کرنے والوں نے انہیں مارخور سے تشبیہ دینا شروع کر دی تھی جس پر کچھ تحفظات سامنے آئے جو اب ان کے ریٹائر ہونے پر ختم ہوچکے ہیں۔