سیاسی منظر نامہ، مذکرات کی کامیابی کیلئے حکومت،PTI میں لچک ضروری

29 اپریل ، 2023

اسلام آباد (طاہرخلیل) پارلیمنٹ میں جہاں دو روز سے حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں مصروف ، خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے گیٹ پر اندر کی کہانی کھول کر رکھ دی تھی کہ اپوزیشن سے مذاکرات کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ، مذاکرات کے سیکنڈ رائونڈسے قبل اسحٰق ڈار کے چیمبر میں حکومتی نمائندے سر جوڑے بیٹھے تھے ، ان میں صادق سنجرانی بھی موجود تھے جو ثالثکا کردار ادا کر رہے ہیں، اس بیٹھک میںحکومتی نمائندوں نے طے کر لیا تھا کہ اسمبلی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گی ، اسی تناظر میںخواجہ آصف کہہ رہے تھے الیکشن اکتوبر میںہی ہوں گے۔خان صاحب نے جمعہ کی صبح اسلام آباد عدالت میں پیشی کے وقت اپنی ٹیم کو پیغام دیا تھا کہ حکومت سے اسمبلی تحلیل کی ڈیٹ لیں اور الیکشن جولائی اگست سے آگے نہیںجانا چاہئیں۔ کچھ مبصرین کا کہنا تھا کہ خان صاحب بھی بھانپ چکے تھے کہ مذکرات کی کامیابی کیلئے ان کے رویوں اور موقف میں لچک کا اظہار ضروری ہے مذاکرات لا حاصل رہیں گے کیونکہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کیلئے ان کے رویوں اور موقف میں لچک کا اظہار ضروری ہے ۔مذاکرات کے پہلے رائونڈ میں حکومت نے کوئی پیش کش نہیں کی تھی جبکہ پی ٹی آئی نے 3 شرائط پیش کی تھیں ۔عمران خان نے اپنی ٹیم کو جمعہ کو صبح یہ ہدایت بھی کر دی تھی کہ حکومت اگر ستمبر اکتوبر میں الیکشن کی بات کرتی ہے تو مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ان کے خیال میں14 مئی کو الیکشن نہ ہوئے تو خدا نخواستہ آئین ٹوٹ جائے گا اسکے بعد جس کے پاس زور ہو گا اسی کی بات چلے گی جبکہ 14 مئی بھی 90 روز کی آئینی مدت کراس کر چکی ،سراج الحق کہتے ہیں کہ 14 مئی کو 90 کی بجائے 105 روز ہو جائیں گے ، ہندسہ 105 کا ہو یا 205 کا جب آئینی میعاد کراس کر لی تو پھر کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کتنی مدت کراس ہو گئی ؟لیکن ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ خان صاحب کی اسلام آباد کورٹ پیشی کے موقعہ پر آنے والے کارکنوںکی گرفتاریوں کا معاملہ باہمی گفت و شنید سے حل کر لیا گیا ،فواد چوہدری اور خواجہ سعد رفیق کی کوششوں سے گرفتار پی ٹی آئی سپورٹرز رہا کر دیئے گئے تھے ،گزشتہ سماعت میں عدالت کی تحمل مزاجی خان صاحب کے سپورٹرز اور ورکرز کو افروختہ کر گئی ، سوشل میڈیا پر عدالتی سربراہ کے خلاف ایک نیا فرنٹ کھول دیا گیا ۔ نہایت اشتعال انگیز گفتگو ہو رہی ہے کہ آپ نے دم خم نہیں دکھایا جبکہ عدالت کے طرز عمل کو ہرکسی نے لائق تحسین گردانا ، جس سے معاملات کول ڈائون ہو رہے ہیں۔اہل سیاست مذاکراتی عمل کو سیز فائز قرار دیتے رہے لیکن انہوںنے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ اقدام نہیں سمجھا کیونکہ مذاکرات سے پہلے کچھ سی بی ایم (اعتماد سازی اقدامات )ضروری ہوتےہیں جو نہیں ہوئے ۔ حکومت نے کوئی پیش کش کی نہ لچک دکھائی جبکہ حکومتی ٹیم کے سربراہ یوسف رضا گیلانی میڈیا کو سمجھاتے رہے کہ آپ لوگ جان لیں جمی برف پگھل رہی ہے کچھ ماننے کچھ منوانے پر اتفاق ہونا چاہیے ۔سرکاری ایوانوںمیں باتیں چلتی رہیں کہ مذاکرات کے کھیل میں پی ڈی ایم کا نہیں پی ٹی آئی کا فائدہ ہے ، اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو حکومت اپنےموقف سے دستبردار ہوگی ، حکمران اتحاد نے جو مزاحمتی بیانیہ کھڑا کیا ہے ، اس سے ان کا ووٹ بنک مضبوط ہو سکتا ہے ، کیونکہ معاشی حالات نے حکمران اتحاد کے ووٹ بنک کو بری طرح متاثر کیا، تاہم ایک زمینی حقیقت آشکار ہے کہ عدالت کے سوا کسی دوسرے ادارے کے پاس اختیار نہیں،عدالت حکم عدولی پر سزا دے سکتی ہے ، پی ڈی ایم جس مزاحمتی بیانیے پر کھڑی ہے اس سے دستبردار نہیں ہو گی، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپسی پربضد کیوں؟ کچھ مبصرین کہتے ہیںکہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں واپسی پر ارکان اسمبلی کو تمام بقایاجات مل سکیں گے، تحریک انصاف کی اسمبلی واپسی پر خزانے کو 50 کروڑ سے زائد کا بوجھ اٹھانا پڑے گا ،اوسطا ًایک رکن اسمبلی کو بقایاجات کی مد میں چالیس سے پچاس لاکھ دینا پڑیں گے۔ ذرائع اسمبلی سیکرٹر یٹ کے مطابق تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کے استعفے آئینی طور پر واپس نہیں ہوسکتے ، استعفوں کی منظوری کا عمل آئینی طور پر مکمل ہوچکا ، الیکشن کمیشن استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن کر چکا ہے ،تحریک انصاف کی اسمبلی میں واپسی صرف عدالتی احکامات پر ہی ہوسکتی ہے ، تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کے معاہدے کی صورت میں واپسی کا راستہ نکالا جائے گا، عدالتی حکم پر ایوان میں واپسی کے عمل کی اپیل نہیں کی جائے گی۔