اسلام آباد‘ تہران‘ استنبول کارگو ٹرین عنقریب شروع ہو جائیگی

29 اپریل ، 2023

اسلام آباد (رپورٹ:حنیف خالد) سفیر اسلامی جمہوریہ ایران سید محمد علی حسینی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پاکستان کو 500میگا واٹ تک بجلی فراہم کریگا‘ فی الحال ایک سو میگا واٹ بجلی گوادر پورٹ‘ گوادر سٹی‘ گوادر ائرپورٹ کیلئے ایران فراہم کررہا ہے جبکہ فی الوقت ایران پاکستان کو 200میگا واٹ سے زیادہ بجلی مہیا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ وہ پاکستان کو بجلی کی فراہمی دو سو سے بڑھا کر پانچ سو میگا واٹ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد‘ تہران‘ استنبول کے درمیان آئی ٹی آئی (کارگو ٹرین) کا آغاز تینوں ملکوں کا ایک بڑا مشترکہ کارنامہ ہے کارگو ٹرین عنقریب شروع ہو جائیگی ۔ اسکے علاوہ ثقافتی‘ سائنسی‘ دفاعی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تین سال کے دوران پاکستان اور ایران میں تعاون بڑھا ہے۔ 73برسوں کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان آمدو رفت کے دو سرکاری بارڈر کراسنگ کھولے گئے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان6نئی بارڈر مارکیٹیں بنانے کا معاہدہ ہو چکا ہے جن میں سے ایک بارڈر مارکیٹ کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور آپریشن کیلئے تیار ہے جبکہ دو اور بارڈر مارکیٹیں ایران اور پاکستان کے درمیان مکمل ہونے والی ہیں۔ تین سال میں پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت 2ارب 20کروڑ ڈالر تک پہنچی ہے۔ وہ جمعہ 28اپریل کو سفارتخانہ ایران واقع اسلام آباد میں اپنے اعزاز میں ترتیب دیئے گئے الوداعی عشائیہ کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ سنیٹر سید مشاہد حسین‘ سابق سفیر آصف درانی اور حامد میر نے بھی عشائیہ کے شرکاء سے خطاب کیا۔ ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا کہ ایران نے اپنے ہمسایہ دوست ملک پاکستان کے ساتھ روابط کو مستحکم بنایا ہے۔ رکاوٹوں کے باوجود دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک عمل کیا ہے۔ پاکستان میں تین سالہ قیام کے دوران ان کا مشن پڑوسی برادر ملک پاکستان کے ساتھ رشتوں کو غیر منصفانہ پابندیوں کے باوجود مضبوط بنانا ان کا مشن رہا۔ ہم پر جو غیر قانونی‘ غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ پابندیاں لگائی گئیں اسکے باوجود پاکستان اور ایران نے سیاسی‘ اقتصادی‘ سکیورٹی اور تجارتی تعلقات کو بتدریج مضبوط بنایا۔ سیاسی شعبے میں اعلیٰ سطح کے سیاسی رابطے اور مشورے ہوتے رہے اور علاقائی تبدیلیوں کیلئے مشاورت کا عمل جاری رہا۔ اقتصادی شعبے میں بینکنگ اور فنانشل چینل کی کمی کے باوجود دونوں ملکوں نے ہر قسم کے اقتصادی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی تجارت‘ معاشی تعاون کو بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیں گے۔