ادویات مہنگی

اداریہ
30 اپریل ، 2023

ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کاروبارزندگی کے ہر شعبہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔ صحت جیسا حساس شعبہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بلند ترین افراط زر کے باعث حکومت نے ادویات 20 فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دی ہے تاہم یہ اضافہ ایک وقتی کیا گیا ہے اور روپے کی قدر میں بہتری آنے کی صورت میں تین ماہ بعد ادویات کی قیمتوں پر پھر سے نظر ثانی کی جائے گی اور اگلے مالی سال میں اس شعبے میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ کئی ماہ پہلے سے دوا ساز کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز نے قیمتوں میں 39 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رکھا تھا جسے حکومت کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعدادویات کی صنعت اور وزارت صحت کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں دوائوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ مارکیٹ میں ادویات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ای سی سی نے قیمت بڑھانے کی اجازت دی ہے۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنزاینڈ کوارڈی نیشن نے مہنگائی کے تناظر میں ڈریپ کی پالیسی بورڈ کی سفارشات پر مبنی ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں میں اضافے کی سمری پیش کی۔ مینوفیکچرز اور درآمد کنندگان کو ضروری ادویات کی موجودہ خوردہ قیمت کو کل سی پی آئی کے تحت ستر فیصد کے مساوی بڑھانے کی اجازت ملی تاہم قیمت پر 14 فیصد کا کیپ لاگو کیاگیا جبکہ دیگر ادویات کی قیمت میں سی پی آئی کے ستر فیصد کے مساوی اضافےکافیصلہ ہوااوراس پر 20 فیصد کا کیپ رہے گا۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کا کہنا ہے کہ جس اضافے کی توقع کی جا رہی تھی یہ اس سے بہت کم ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.1 ارب ڈالر کا پیکیج حاصل کرنے کے لئے سبسڈیز ختم کرنے اور بھاری ٹیکس نافذ کرنے کے باعث مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اشیائے خور و نوش بھی 47 فیصد مہنگی ہوگئی ہیں ایسے میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوگا۔