عمران کی زیرصدارت سینئر رہنمائوں کا اجلاس، حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

30 اپریل ، 2023

لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کا زمان پارک میں اہم اجلاس ہوا، پرویز الہی کے گھراینٹی کرپشن اور پولیس کے دھاوے کی مذمت کی گئی ، حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔اجلاس میں شاہ محمود قریشی علی ظفر ،حماد اظہر، اعظم سواتی اعجاز چودھری ،حافظ فرحت عباس سمیت دیگر نے شرکت کی,ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں عمران خان کو حکومت کے ساتھ اب تک کے مذکرات پر بریفنگ دی گئی۔ ارکین نے پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر آپریشن کی بھر پور مذمت کی ۔ پی ٹی آئی رہنماوں نے رائے دی کہ حکومت کے ساتھ مذکرات جاری رکھے جائیں، چوہدری پرویز الٰہی کےگھراینٹی کرپشن اور پولیس کے دھاوے ،مذکرات پی ٹی آئی کی طرف سے ختم کروانے کی سازش ہو سکتا ہے، اجلاس میں رائے پیش کی گئی کہ مذکرات ہماری طرف سے ختم کرنے پر سپریم کورٹ میں انہیں موقع مل سکتا ہے ۔ تاہم بعض ارکین کی رائے تھی کی مذکرات کو مزید آگے نہیں نہیں جانا چاہیے ہماری تجویز پر عمل نہ ہو تو مذکرات ختم کرنے چاہیے ۔ اجلاس میں مختلف تجویز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی ۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ حکومت سے مذاکرات جاری رہیں گے ۔علاوہ ازیںزمان پارک میں اپنی رہائشگاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے قوم سے خطاب کرتےہوئے عمران خان نے کہاکہبجٹ کے بعد اسمبلی تحلیل کرنے کی بات میں مجھے بدنیتی نظر آرہی ھے۔ آپ الیکشن لڑیں جیت گئے تو بجٹ پیش کر دیں۔ 14 مئی سے پہلے اسمبلی تحلیل کر دی تو ہم پورے ملک میں الیکشن کے لئے تیار ہیں ۔ 14 مئی سے پہلے اسمبلی تحلیل نہ کی تو ہم پنجاب اور کے پی میں الیکشن کرا لیں گے۔یہ کہتے تھے اپنی اسمبلیاں تحلیل کریں الیکشن ہو جائے گا، ہم نے اسمبلیاں تحلیل کیں تو یہ الیکشن سے بھاگ گئے، کہتے ہیں الیکشن کے لئے پیسے نہیں ہیں،سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ، اپنی اسمبلیاں تحلیل کیں 90 دن گزر گئے الیکشن نہیں ہوئے، ساری 13 جماعتیں مل گئی ہیں ، الیکشن نہیں ہورہا، یہ سارے ملکر آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ سپریم کورٹ پر حملے ہورہے ہیں۔ عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ قوم سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے۔نگران حکومت کی کیا آئینی حیثیت ہے۔یہ کیوں ابھی تک ہیں۔ نگران حکومت کا کام الیکشن کروانا ہے۔ انہوں نے الیکشن کروانے کے علاوہ سب کچھ کیاہے۔عمران خان نے کہاکہ چوہدری پرویز الہی کے گھر پر رات کو حملہ کیا گیا۔ چوہدری پرویز الہی کے گھر کا دروازہ بکتر بند گاڑی سے توڑا گیا۔ بتائیں دنیا میں کس مہذب معاشرے میں ایسا ہوتا ھے۔ میں اسلام آباد گیا تو پولیس نے پیچھے میرے گھر پر حملہ کیا۔ آج ملک میں جنگل کا قانون ھے۔ طاقتور جو چاہے وہ کرے۔عمران خان نے کہا ایک طرف مذاکرات چل رہے ہیں اور دوسری طرف حملےہورہے ہیں ۔ کیا یہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں یا اوپر اوپر سے کر رہےہیں۔ ہم پوری کوشش کر رہےہیں کہ کسی طرح مسئلے کا حل نکالا جائے۔ پہلے بھی کہاکہ الیکشن پر مذاکرات کے لئے تیار ھیں۔ 14 مئی کے اندر اسمبلیاں تحلیل کرتے ہیں تو ایک دن الیکشن کے لئے تیار ھیں۔ جتنی جلدی الیکشن ھو گا سیاسی استحکام آئے گا۔ یہ کہہ رھے ھیں پہلے بجٹ پیش کریں گے پھر اسمبلی تحلیل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بجٹ پاس کرنا ہے تو الیکشن جیتیں پھر بجٹ بنائیں۔ عمران خان نے کہاطاقتور حلقوں کو میرا پیغام ہے کہ پرامن لوگ زیادہ دیر پرامن نہیں رہیں گے۔ عوام کو غصہ ہے اگر الیکشن کی امید ختم ھو گئی تو ملک میں سری لنکا سے برا حال ہو گا۔ عوام کی امید ختم ہو گئی تو یہ سنبھالے نہیں جائیں گے۔عمران خان نے کہاکہ میں ڈرا نہیں رہا سمجھا رہا ہوں۔ یہ لوگ مذاکرات سنجیدہ کر رہےہیں یا اوپر اوپر سے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف ہمارے لوگوں کو پکڑ رھے ھیں۔ عمران خان نے کہاکہ یہ لوگ چیف جسٹس اور ان کے گھر والوں پر کیچڑ اچھال رہےہیں۔ یہ 13 جماعتیں مل گئی ھیں اور آئین توڑنے جا رہی ہیں۔ میں قوم کی طرف سے اپیل کر رہا ہوں کہ تمام 15 ججز اپنے اندر اتحاد قائم کریں ۔