چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ریفرنس دائر،5مئی تک اثاثہ تفصیلات فراہم کرنیکابھی مطالبہ

30 اپریل ، 2023

فیصل آباد (نمائندہ جنگ) ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر فیصل آباد عرفان کوثر نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کیخلاف ریفرنس دائر کر دیا۔سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھجوائے گئے ریفرنس میں 5مئی تک چیف الیکشن کمشنر کے اثاثہ جات کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کی طرف سے اس ریفرنس کی کاپیاں صدر پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔ عرفان کوثر کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اسلام آباد، لاہور اور سرگودھا میں رئیل اسٹیٹ کے نجی کاروبار میں غیر قانونی طور پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے چیف الیکشن کمشنر پر اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹس کی پرکشش عہدوں پر تعیناتیوں، پبلک فنڈ سےغیر ضروری اخراجات کرنے ،اختیارات کے ناجائز استعمال اور عام انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے الیکشن کمیشن کے نظام کو متاثر کرنے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ عرفان کوثر کی جانب سے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے جو دستاویزات مانگی گئی ہیں ان میں سکندر سلطان راجہ کےچیف الیکشن کمشنر بننے سے قبل ظاہر کئے گئے اثاثہ جات اور زیر کفالت افراد بالخصوص بڑے بیٹے سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی تقرری پر بھی اعتراض کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں لکھے گئے ایک الگ خط میں انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ ون سے عمر حامد خان کی وفاق سے ریٹائر منٹ کا نوٹیفکیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن کی اسامی کیلئے اخبار میں دیئے گئے اشتہار کی کاپی اور عمر حیات خان کی جانب سے اس اسامی پر تعیناتی کے لئے جمع کروائی گئی درخواست اور انہیں سیکرٹری الیکشن کمیشن مقرر کئے جانے کا تقرر نامہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ظفر اقبال حسین کی بطور سپیشل سیکرٹری ، محمد خالد صدیق کی بطور ایڈیشنل ڈایریکٹر جنرل ہیومن ریسورس اور منظور ملک کی بطور ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن الیکشن کمیشن میں تقرری پر بھی اعتراض کرنے کیساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ سے ان افسران کی تقرری کا ریکارڈ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔