سوڈانی تنازع نسلی فسادات میں تبدیل ہونے کاخدشہ

26 مئی ، 2023

خرطوم (نیوز ڈیسک) سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ اگر متحارب فریقین نے پیر کے روزسے شروع ہونے والی جنگ بندی کا احترام نہیں کیا اور اس میں توسیع نہیں کی تو سوڈان میں لڑائی نسلی بنیادوں پر مبنی مسلح تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ سوڈان کے لیے عالمی ایلچی وولکر پرتھیس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ زدہ ملک میں تنازع نسل پرستی کا رخ اختیار کرسکتا ہے ۔ جنگ کے طول پکڑنے کا اندیشہ ہے اور اس کے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پرتھیس نے سوڈان میں مسلح فوج کے دونوں دھڑوں کے درمیان ایک ہفتے کی جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ لڑائی ملک کو نسل پرستی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے کچھ حصوں میںفوج اور ملٹری کے درمیان لڑائی فرقہ وارانہ تناؤ میں بدل گئی ہے اور اس نے نسلی برادریوں کے درمیان تصادم کو جنم دیا ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر ریاست جنوبی کوردوفان میں بھی قبائلیوں کے متحرک ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ پائیدار جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی دوسری ترجیح تنازع کو بڑھنے یا نسل کشی سے روکنا ہے۔ پرتھیس نے پیر کی رات 9 بج کر 45 منٹ سے آغاز ہونے والی جنگ بندی کوخوش آیند پیش رفت قرار دیا ۔ ،جب کہ دوسری طرف منگل کے روز دن بھرمتحارب فورسز کے درمیان لڑائی جاری رہی ۔ عالمی ایلچی نے سوڈان کے متحارب فریقوں پرزوردیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں جس پر انہوں نے 3روز قبل جدہ میں دست خط کیے تھے۔ انہوں نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ لڑائی بند کرکے شہریوں کو انسانی امداد تک رسائی کی اجازت دینی چاہیے اورانسانی بھلائی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور اثاثوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ سعودی عرب ، امریکا اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں سوڈانی فریقین کے درمیان جدہ میں مذاکرات ہوئے تھے۔