گندم ریٹ 5600سے گر کر 4300روپے فی 40کلوگرام ہو گیا

28 مئی ، 2023

اسلام آباد (رپورٹ:حنیف خالد) پنجاب‘ خیبر پختونخوا اور دوسرے علاقوں میں گندم کی نئی فصل آنے سے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تیز رفتاری سے کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ ماہ 56سو روپے فی چالیس کلو گرام گندم کے جو ریٹ آل ٹائم ریکارڈ ہو گئے تھے ان میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔ ہفتہ 27مئی کو چالیس کلو گرام گندم کی قیمت 4ہزار تین سو روپے فی چالیس کلو گرام تک آ گئی ہے۔ اسکے نتیجے میں فلور ملز مالکان نے پندرہ کلو پرائیویٹ آٹے کے ریٹ 22سو روپے سے کم ہو کر 27مئی کو ساڑھے اٹھارہ سو سے ساڑھے انیس سو روپے تک آ گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب برانچ کے چیئرمین چوہدری افتخار احمد مٹو کی تجویز پر گندم کی بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندیاں ختم کر دی ہیں جبکہ آٹے‘ میدے‘ فائن‘ سوجی بھی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں لے جانے کیلئے پرمٹ کا اجراء کر دیا ہے۔ اس پرمٹ پر پنجاب کے دوسرے اضلاع سے شمالی پنجاب میں آٹا‘ گندم‘ فائن‘ میدہ آنا شروع ہو گیا ہے۔ 11مئی سے پہلے راولپنڈی اسلام آباد کی فلور ملوں میں 20کلو آٹا تھیلے کا ریٹ 33سو روپے ہو گیا تھا‘ 27مئی ہفتہ کے روز پنجاب کے دوسرے شہروں سے شمالی پنجاب آنے والے آٹے کی وجہ سے مقامی فلور ملوں نے یہ ریٹ کم کر کے 25سو روپے فی بیس کلو تھیلا کر دیا ہے۔ اس طرح آٹھ سو روپے فی بیس کلو آٹا تھیلا کا اضافی منافع فلور ملیں اور ڈیلرز عوام سے وصول کرتے رہے۔ محکمہ خوراک پنجاب نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین افتخار احمد مٹو کی سفارش پر آٹے‘ گندم‘ فائن‘ میدے کی ٹرانسپورٹیشن کے پرمٹ دو ہفتے سے جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد اور اردگرد کے علاقوں میں عوام کو آٹھ سو روپے فی بیس کلو آٹا تھیلا کم قیمت پر دستیاب ہونے لگا ہے۔ فائن اور میدے کی 80کلو کی بوری جس کے ایکس ملز ریٹ 13ہزار نو سو روپے مئی کے پہلے عشرے میں راولپنڈی اسلام آباد کے فلور ملز مالکان نے بڑھائے ہوئے تھے 27مئی ہفتہ کو 2ہزار روپے فی بوری کم ہو کر 11ہزار 9سو روپے رہ گئے ہیں۔ آٹے کا کاروبار کرنے والے لوگوں نے حکومت اور راولپنڈی اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تندوروں اور ہوٹلوں پر روٹی کا ریٹ 10روپے اور نان کا ریٹ 12روپے فوری کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ تمام بڑے چھوٹے شہروں کی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر بھی فوری طور پر ریٹس کم کروائے جانے چاہئیں تاکہ جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد اور گردو نواح کے عوام کو مہنگائی میں قدرے ریلیف مل سکے۔