شاہ محمود کے نظربندی احکامات غیر قانونی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

28 مئی ، 2023

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ محمودقریشی کی3ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت سے جاری فیصلہ میں شاہ محمود قریشی کے بیان حلفی کو بھی تحریری فیصلے کا حصہ بناتے ہوئے کہاگیا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے9مئی کے واقعات کی مذمت اور کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا، شاہ محمود قریشی کی جانب سے بیان حلفی کی خلاف ورزی توہین عدالت کے مترادف ہو گی،بیان حلفی کی خلاف ورزی کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو گی،عدالت کاکہناہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے نظربندی کے احکامات غیر قانونی ہیں،تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کا حکم صرف ٹھوس شواہد کی بنا پر جاری ہو سکتا ہے،اس کیس میں ایم پی او کی سیکشن تین کے تحت آرڈر جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے سپیشل برانچ کی 11 مئی کی رپورٹ کا حوالہ دیا، سپیشل برانچ کی جس رپورٹ پر انحصار کیا گیا وہ مبہم اور غیر واضح ہے،رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی لیڈرشپ نے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلائی،رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز مہم سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا،شاہ محمود قریشی کا نام اس فہرست میں شامل کیا گیا جو مبینہ طور پر اشتعال پھیلانے والوں میں شامل تھے،عدالتی کارروائی میں یہ طے نہیں کیا جا رہا کہ شاہ محمود قریشی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں،شاہ محمود قریشی کی نقص امن کے خدشہ کے پیش نظر نظر بندی کے احکامات درست نہیں،شاہ محمود قریشی کی نظر بندی ختم کر کے فوری رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں انسدادِ دہشتگردی عدالت نے25 مئی کوپی ٹی آئی رہنمائوں کی استثنی ٰدرخواستیں اور ضمانت خارج ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیاہے ،جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت سے جاری تفصیلی فیصلہ میں عدالت کاکہناہے کہ پی ٹی آئی رہنمائوں کی عدم حاضری پر درخواستِ استثنی مسترد اور ضمانت قبل از گرفتاری خارج کی جاتی ہے،مسلسل غیر حاضری اور استثنی مانگنے کی وجوہات کافی نہیں ہیں، اس سے قبل متعدد بار پی ٹی آئی رہنما عدالت کے سامنے پیش ہونے میں ناکام رہے ہیں،عدالت میں حسان نیازی، فرخ حبیب، اسدقیصر، راجہ خرم اور شبلی فراز،زلفی بخاری، اعظم سواتی، عاطف خان، مراد سعید، علی اور علی نواز کی بھی درخواستِ استثنی دائر کی گئیں،پی ٹی آئی رہنمائوں کی جانب سے ممکنہ گرفتاری اور حراساں ہونے کے خدشات پر درخواست استثنی دائر کی گئی تھیں۔