60 ارب کا ڈاکو، فارن ایجنٹ، توشہ خانہ چور سے مذاکرات نہیں، حکومت

28 مئی ، 2023

اسلام آباد(نیوز ایجنساں، محمد صالح ظافر ) حکومت نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے ، وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے عمران مذاکرات کی نہیں این آر او کی اپیل کررہے ہیں ، انہوں نے کہا 60 ارب کا ڈاکا ڈالنے والے غیر ملکی ایجنٹ اور توشہ خانہ چور سے مذاکرات نہیں ہوتے بلکہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے، سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بات چیت صرف سیاست دانوں سے کی جاتی ہے ، نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ شہدا کی یادگاروں کو جلانے والے، ملک کو آگ لگانے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے گروہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی، سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ عمران کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کا اعلان مضحکہ خیز ہے ،کیوں کہ سات رکنی مذاکراتی ٹیم میں سے چار افراد مفرور ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بیان میں کہا کہ ریاست پہ حملہ کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے مذاکرات نہیں کئے جاتے۔ عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی نہیں این آر او کی اپیل کی جارہی ہے۔ ایمبولنسز، اسپتال، اسکول جلانے،ملک میں فساد، توڑپھوڑ اور انتشار پھیلا کراور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر انڈیل کر اب کہتے ہو کہ مذاکرات کرنے ہیں؟ ملک میں انتشار پھیلانیاور مسلح جتھے بنانے والے سے بات چیت نہیں ہو سکتی ۔ عمران خان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا عمل بے سود ہوگیا ہے کیوں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے واضح طور پر پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کا امکان مسترد کردیا ہے، پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے سے ہی مذاکرات کا امکان مسترد کرچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی ہے تاہم سیاسی مبصرین نے اس اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے ۔ پولیس مراد سعید، حماد اظہر، حلیم عادل شیخ اور اسد قیصر کی تلاش میں مصروف ہیں جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد نے 9 اور 10 مئی کے دہشتگردی کے واقعات کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان مین سے دو ملزمان کیخلاف کیس فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ شاہ محمود قریشی جو پہلے بھی ناکام مذاکرات کی قیادت کرچکے ہیں پہلے سے ہی پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ اسد عمر ایسی کسی ٹیم کا حصہ بننے کے خواہاں نہیں ہوں گے۔ اسد عمر پارٹی کے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں ذرائع کے مطابق وہ ایسی کسی کارروائی میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے مذاکرات کے ایجنڈے کی اہمیت کم کردی ہے۔ 4 وفاقی وزراء پہلے ہی عمران کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کرچکے ہیں۔ مریم نواز وہاڑی میں خطاب کے دوران پی ٹی آئی کیساتھ کسی بھی طرح کے مذکرات کا امکان مسترد کرچکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کو زمینی حقائق کو سمجھنا ہوگا کیوں کہ وہ اس کے بغیر خیالوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔