عدالتی اصلاحات قانون سے عدلیہ کی آزادی میں اضافہ ہوگا

02 جون ، 2023

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ(پریکٹس اینڈ پروسیجر)ایکٹ 2023 کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر مقدمہ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے ایکٹ کیخلاف دائر تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے،مسلم لیگ ق کی جانب سے جمعرات کے روز جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو رہا ہے،ایکٹ میں سپریم کورٹ کا انتظامی اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہی رکھا گیا ہے،مزید کہا گیا ہے کہ قانون میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس اختیار کا استعمال چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو دے کر سپریم کورٹ کے انتظامی اختیار کو وسعت دی گئی ہے،جواب کے مطابق ایکٹ کا سیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے، ایکٹ کا سیکشن 3 عدلیہ کے 184(3) کے اختیار کے استعمال کو کم نہیں کرتا ، سیکشن 3 چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے، جواب میں کہا گیا ہے سپریم کورٹ(پریکٹس اینڈ پروسیجر)ایکٹ 2023 کے تحت از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال اور براہ راست اختیار سماعت کے مقدمات کمیٹی کے ذریعے مقرر کرنے سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد بڑھے گا،آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کی بغیر پابندی،دبائو اور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے،جواب میں کہا گیا ہے کہ وکلا ء تحریک کے بعد عدالتی اصلاحات کے موقع گنوا دیا گیا تھا ، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، ثاقب نثار اور گلزار احمد نے از خود نوٹس اختیارات کا فعال استعمال کیا جس کے کچھ منفی نتائج بھی بر آمد ہوئے جو پاکستان اسٹیل مل ،پی کے ایل آئی اور نسلہ ٹاور سے متعلق فیصلوں کی صورت میں موجود ہیں، تاہم سپریم کورٹ(پریکٹس اینڈ پروسیجر)ایکٹ 2023 جیسی قانون سازی کرکے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا،جواب گزار نے عدالت سے اس ایکٹ کیخلاف دائر تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔