کیا آئین شہریوں کی کالز ریکارڈنگ کی اجازت دیتاہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

02 جون ، 2023

اسلام آ باد (آئی این پی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نجی افراد کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرلی جبکہ 4 عدالتی معاونین بھی مقرر کردیئے گئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم ثاقب کو پارلیمنٹ کی کمیٹی کا سمن معطل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔ عدالت عالیہ کے 7 صفحات پر مشتمل حکمنامے میں وفاق، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور پی ٹی اے کو بھی فریق بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے 5 عدالتی معاونین بھی مقرر کردیئے، جن میں اٹارنی جنرل سمیت اعتزاز احسن، مخدوم علی خان، رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا شامل ہیں۔ عدالت عالیہ نے معاملے پر مختلف سوالات بھی اٹھائے ہیں، پوچھا گیا ہے کہ کیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟، اگر اجازت ہے تو کون سی اتھارٹی کس میکنزم کے تحت ایسا کرسکتی ہے؟، ایسی آڈیو ریکارڈنگ خفیہ رکھنے اور ان کا غلط استعمال روکنے کے کیا حفاظتی انتظامات ہیں؟۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر اجازت نہیں تو پرائیویسی کی خلاف ورزی پر کون سی اتھارٹی ذمہ دار ہے؟، غیر قانونی ریکارڈ کی گئی کالز کو ریلیز کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟، کیا پارلیمنٹ کسی پرائیویٹ شخص کے معاملے پر انکوائری کرسکتی ہے؟۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا رولز اسپیکر کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ نجی اشخاص کی گفتگو لیک ہونے پر کمیٹی بنائیں۔ جسٹس بابر ستار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے احترام میں تحمل دکھاتے ہوئے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کیا جارہا تاہم خصوصی کمیٹی کی جانب سے درخواست گزار نجم ثاقب کو طلب کرنے کا سمن معطل رہے گا۔