چین اور بھارت نے ایک دوسرے کے صحافیوں کوملک سے نکال دیا

02 جون ، 2023

کراچی(نیوز ڈیسک)جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک بھارت اور چین کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد اب صحافت بھی متاثر ہو رہی ہےدونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والے تقریباً تمام صحافیوں کو نکال دیا ہے۔چین نے اس صورت حال کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرایا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے چینی صحافیوں کے ویزے کی مدت جان بوجھ کر کم کر دی اور مئی 2020ء کے بعد سے کوئی نیا ویزا جاری نہیں کیا گیا۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مقیم آخری چینی صحافی کے ویزے کی مدت بھی ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے پاس اس کے جواب میں مناسب کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں بچا۔تاہم ماؤ ننگ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کس طرح کی مناسب جوابی کارروائی کرے گا۔قبل ازیں مئی میں بھارتی حکومت نے چین کے سرکاری میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے دو صحافیوں کو ویزے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک شنہوا نیوز ایجنسی کے لیے اور دوسرے چین کے سینٹرل ٹیلی وژن کے لیے کام کرتے ہیں۔بھارت کے چار صحافی اب بھی چین میں تسلیم شدہ ہیں لیکن ان میں سے دو کو بھارت آنے کے بعد واپس لوٹنے کے لیے ویزا جاری نہیں کیا گیا جب کہ تیسرے کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ ان کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ تاہم وہ فی الحال چین میں ہی موجود ہیں۔ماؤ ننگ نے کہا کہ حالات کو معمول پر واپس لانے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بھارت چین کے ساتھ یکساں سمت میں کام کر سکتا ہے یا نہیں اور چینی صحافیوں کو بھارت میں مدد اور سہولتیں فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔بھارت نے چینی وزارت خارجہ کے بیان پر فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے امید ظاہر کی ہے کہ چین بیجنگ میں بھارتی صحافیوں کی موجودگی کو برقرار رکھنے میں معاونت کرے گا۔علاوہ ازیں چین نے بھارت میں اپنا نیا سفیر بھی اب تک مقرر نہیں کیا اگرچہ کہ سابق سفیر سن ویئی ڈونگ گزشتہ برس ہی بیجنگ لوٹ گئے تھے۔دوسری جانب بھارت بھی مغربی ملکوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے میں مصروف ہے۔ کواڈ گروپ میں شامل دیگر ممالک کے امریکا، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ بھارت نے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ یہ تینوں ملک بھارت کو چین کے متبادل کے طورپر دیکھتے ہیں۔