امریکا، قرض کی حد میں اضافہ،31.4 کھرب ڈالر کا دو طرفہ معاہدہ منظور

02 جون ، 2023

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر جو بائیڈن اور ایوان کی اسپیکر کیون میکارتھی کی جانب سے پیش کردہ قرض کی حد میں اضافے کے 31.4 کھرب ڈالر کا دو طرفہ معاہدہ بدھ کو ایوان نمائندگان میں اکثریتی ووٹنگ سے منظور کر لیا گیا۔ یہ پیش رفت امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کی آخری تاریخ سے پانچ روز قبل ہوئی ہے۔اب اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور صدر بائیڈن کے دستخط کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔ بل کی منظوری کے بعد صدرجو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دو طرفہ معاہدہ امریکی عوام اور معیشت دونوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ 435 رکنی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ کے دوران 314 ارکان نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا جب کہ 117 نے اس کی مخالفت کی۔ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ مزید قرض لینے کو ممکن بنائے گا اور اس امر کو بھی یقینی بنائے گا کہ ملک قرض کی ادائیگیوں میں ناکام نہ ہو، ورنہ امریکی اور عالمی معیشتوں کو ممکنہ طور پر تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔قرض کی حد بڑھانے کے معاملے پر انتہائی دائیں اور بائیں بازو کی طرف سے شدید ردِعمل سامنا آ رہا تھا۔ لیکن اسے ایوان میں دونوں جماعتوں کی حمایت سے منظور کر لیا گیا۔واضح رہے کہ ایوانِ نمائندگان سے یہ بل ایک ایسے موقع پر منظور ہوا ہے جب امریکہ پر ڈیفالٹ کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر کیون میکارتھی کے صدر جو بائیڈن سے متعدد بار مذاکرات کے بعد دونوں جماعتیں قرض کی حد میں اضافے اور اخراجات میں کٹوتیوں پر متفق ہو سکیں۔بعض ریپبلکن سینیٹرز نے بھی بل میں اپنی ترامیم کو شامل کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا لیکن ڈیموکریٹس نے اس کے امکان کو مسترد کر دیا ۔سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے بھی خبردار کیا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے نتائج کا پوری دنیا پر اثر ہو گا اور اس سے نکلنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا، "یہ بالکل صاف اور سادہ بات ہے کہ ہم ایوان کو ایسی کوئی دستاویز دوبارہ نہیں بھیج سکتے۔ ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے بچنا ہو گا۔