بیرونی قرضے،ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھنے لگا،سینیٹرعبدالقادر

08 جون ، 2023

اسلام آباد ( پ ر ) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و ریسو رسز سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت جس بد ترین معاشی بحران کا شکار ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھا، اس پر قابو پانے کیلئے حکومت اور اسکی معاشی ٹیم دوست ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے ہر طرح کے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے مگر صورت حال اس کے قابو میں نہیں آ رہی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کےمعاملے میں ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، ایک بیان میں ا ن کا کا کہنا تھا کہ ماہرین کے خیال میں پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی اشد ضرورت ہے، اس معاملے میں پلان بی اور پلان سی کی کوئی گنجائش نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط بہت سخت ہیں لیکن معاشی ابتری پر قابو پانے کیلئے ان پر عملدرآمد کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں، معاشی ترقی کیلئے ماہرین مل بیٹھیں اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلانے میں کردار ادا کریں،انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ اگر ملک ڈیفالٹ ہو گیا تو مہنگائی میں ستر فیصد اضافہ ہو جائے گا، چنانچہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانا ہو گا، معاشی بحران میں معاشی عدم استحکام کا براہ راست نتیجہ ہے، آئی ایم ایف بھی سخت ترین شرائط پوری کرنے کے باوجود اسی وجہ سے قرضہ جاری نہیں کر رہا، اس لئے سیاستدانوں کو اپنی سیاست کی بجائے ریاست کے مفادات پر توجہ دینا ہوگی، اسی طرح معاشی ابتری دور کرنے کی تدبیر ہو سکے گی،انہوں نے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا،اس حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی تجویز بھی قابل عمل محسوس ہوتی ہے،پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ہمیں ہر برس 50 ارب ڈالر کی خوراک درآمد کرنا پڑتی ہے، ایسے اقدامات کئے جائیں کہ خوراک کا درآمدی بل کم ہو سکے،بیرون ملک پاکستانیوں کو ترسیلات زر کی ترغیب دی جائے جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔