بنگلہ دیش ،شدید گرمی کی طویل ترین لہر میں اسکول بند، بجلی کی بندش

08 جون ، 2023

ڈھاکہ (اے ایف پی) بنگلہ دیش کو نصف صدی میں شدیدگرمی کی طویل ترین لہر کا سامنا ہے، اور اس سے نبردآزما ہوتے ہوئے اس نےہزاروں اسکول بند کر دیے ہیں، بجلی کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں نے مقامی افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔دارالحکومت ڈھاکہ میں درجہ حرارت تقریباً 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے غریب افراد کڑکتے سورج کی زد میں ہیں۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات کے ایک سینئر اہلکار، بزل الرشید نے کہاکہ ہم نے 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سے اتنی طویل گرمی کی لہر کبھی نہیں دیکھی۔حکومت کی جانب سے ہزاروں پرائمری اسکول بند کر دیے گئے،اور بجلی کی پیداوار میں زبردست کمی کی گئی ہے،علاوہ ازیں ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔پیر کو ملک کے سب سے بڑے پاور پلانٹ کو کام معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ حکومت کوئلے کا ایندھن فراہم کرنے کے قابل نہیں ۔بنگلہ دیشی ٹکے کی قدر میں گزشتہ سال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد کمی ہوئی، جس سے ایندھن کی درآمدات اور بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔دیگر پلانٹس طلب کو پورا نہیں کرپا رہےہیں، جس کی وجہ سے گھنٹوں طویل بلیک آؤٹ ہورہا ہے۔بنگلہ دیش میں گرمی کی لہر اپریل میں شروع ہوئی ،چند نرمی کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں دوبارہ شروع ہوئی، پیشین گوئی کے مطابق پارہ ہفتے کے آخر تک بلند رہے گا۔ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن گروپ کی جانب سے گزشتہ ماہ کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ بھارت، لاؤس اور تھائی لینڈ میں ریکارڈ توڑ مہلک ہیٹ ویوز کا امکان کم از کم 30 گنا زیادہ کر دیا ہے۔سرکاری پاور کمپنی کے عہدیداروں نے بتایا کہ کچھ دیہی اضلاع میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ دن میں چھ سے دس گھنٹے تک ہوتی ہے۔