کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کی بجٹ ٹرانسمشن میں گفتگو کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اگر ہمیں اگر آئی ایم ایف اگر آجاتا ہے ہمارے ساتھ تو پھر تو ہمیں بڑی سہولت ہوجائے گی،موٹرویز انڈر پاسز بنانا بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے ڈیمز آپ کے واٹر ریزروز آپ کے انڈسٹریل اسٹیٹ کا بننا بہت ضروری تھا،ٹریڈ ڈیفیسٹ کو کم کرنا ہوگا ہمیں واٹر ریزروز بنانے ہوں گے ہمیں سولر پر آنا ہوگا،ہمارے ہاں جب تک انڈسٹری نہیں لگے گی ہماری ایکسپورٹ بہتر نہیں ہوسکتی اور ایکسپورٹ کے بغیر آپ اس ملک کو کھڑا نہیں کرسکیں گے تو آپ کو انڈسٹری کو ایک پیکیج دینا پڑے گا،جب تک ہم اپنی کرنسی کو مستحکم نہیں کریں گے نہ ہی آپ کا انٹرسٹ ریٹ کم ہوگا نہ ہی افراط زر کم ہوگا۔خصوصی ٹرانسمیشن میں زاہد حسین،عرفان شیخ،کاشف انور، زاہد شنواری اور طارق یوسف نے اظہار خیال کیا۔معاشی تجزیہ کار زاہدحسین نے کہا کہ آئی ایم ایف کا جو مسئلہ ہے آئی ایم ایف ہمیں بہت سارے گول پوسٹ چینج کرتا رہا ہے اور بہت ساری شرائط اس نے ون بائی وے کر کے منوائیں جس میں ہمارا فسکل اسپیس کا مسئلہ تھا ہمارا جو ریونیو کا مسئلہ تھا انہوں نے کہا جی آپ ریونیو کس طرح پورا کریں گے انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے لئے ہمارے اوپر پریشر ڈالا وہ بھی ہم نے پچاس روپے کیا اور اب سنا ہے کہ اس بجٹ میں اس کو ساٹھ روپے کرنے جارہے ہیں اسی طریقے سے انہوں نے ہمیں اصل جو مین ایشو ہے جس کی وجہ سے میں سمجھ رہا ہوں کہ ابھی مسئلہ ہمارا حل نہیں ہورہا آئی ایم ایف کے ساتھ کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جی بجلی کے شعبے کے آپ کے بلوں کی ریکوری کس طریقے سے آپ ٹھیک کریں گے لائن لاسز کس طرح سے آپ ٹھیک کریں گے اور گیس کے لاسز جو ہیں جو پہلے نہیں ہوتے تھے 200 ارب کے گیس کے لاسز بھی شروع ہوگئے ہیں تو ان کا کہنا یہی ہے کہ یہ ساری مینجمنٹ آپ کس طریقے سے کریں گے پھر اس سال ہمارا جو ریونیو ہے وہ بھی تقریباً پانچ سو ارب روپے سے ٹارگٹ شاید ہمارا مس ہونے جارہا ہے اور اگلے سال کے لئے وہ کہہ رہے ہیں جی آپ گیارہ ہزار ارب روپے کا ٹارگٹ کس طرح Achieveکریں گے اس کیلئے بھی ہمیں اپنا پلان دیں یہ ساری چیزیں ہیں اگر ہمیں اگر آئی ایم ایف اگر آجاتا ہے ۔