سمندری طوفان کراچی کے مزید قریب،انخلاء تیز،شہر میں گرد آلود ہوائیں اور بارش،سمندر کا پانی سڑک تک پہنچ گیا،سائیکلون بھارتی گجرات کے ساحل سے ٹکرا گیا،7 افراد ہلاک

14 جون ، 2023

کراچی،اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں ) سمندری طوفان کا کراچی سے فاصلہ کم ہوکر 410کلو میٹر رہ گیا جس کے اثرات شہر میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔شہر میں گرد آلود ہوائیں چلنے لگی ہیں اور بعض مقامات مٹی کا طوفان بھی آیا۔طوفان بھارتی ریاست گجرات کے شہر مانڈوی کے ساحل سے ٹکراگیا جہاں کم سے کم7افراد ہلاک ہوگئے ہیں ،سمندری طوفان بپر جوائے کراچی کے جنوب کی جانب گامزن ہے۔سمندری طوفان کی تباہی اور جانی نقصان سے بچنے کیلئے سول انتظامیہ اور فوج پوری طرح حرکت میں آگئے،ممکنہ سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ،کیٹی بندر شہر خالی کرایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سمندری طوفان کی شدت کم ہوئی ہے، بلوچستان کے چند علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق طوفان کے پیش نظر ٹھٹھہ ،بدین اور سجاول سمیت ساحلی پٹی سے انخلا ءتیز کردیا گیا ، طوفان کی آمد سے قبل 90 ہزار افراد کا انخلا ءمکمل کرنے کا ٹارگٹ ہے جس کے باعث کیٹی بندر شہر خالی کرایا جارہا ہے ،بدین اور سجاول سے بھی متاثرین کی ریلیف کیمپوں میں منتقلی کی جارہی ہے۔کراچی کینٹ، بدین اور حیدرآباد سے پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے ساحلی علاقوں میں بھیجے گئے ہیں ، میرین سیکورٹی، رینجرز اور منتخب نمائندے ساحلی پٹیوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرانے میں مصروف ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق بپر جوئے طوفان کا کراچی اور ٹھٹہ سے فاصلہ مزید کم ہوگیا ہے، منگل کی دوپہر تقریباً 12 بجے کے قریب طوفان 470 کلومیٹر دوری پر ریکارڈ کیا گیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق طوفان 140 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔سمندری طوفان کے اثرات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، کراچی، ٹھٹھہ، بدین اور دیگر علاقوں میں شدید حبس ہے جبکہ کراچی کی ساحلی بستی چشمہ گوٹھ میں پانی سڑک کنارے تک پہنچ گیا ہے۔ممکنہ سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا۔چشمہ گوٹھ میں سمندر کے پانی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر پانی چشمہ گوٹھ کی سڑک کنارے تک پہنچ گیا اور دوسری جانب رہائشیوں نے تاحال گھر خالی نہیں کیے ہیں۔اس حوالے سے ایک ماہی گیر نے بتایا کہ ریڑھی گوٹھ جیٹی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوجاتا ہے، شام کے اوقات میں جیٹی کا کچھ حصہ زیر آب آجاتا ہے۔دوسری جانب کورکمانڈرکراچی نے سمندری طوفان سے متعلق اقدامات پر رات گئے بدین میں ہنگامی اجلاس بلایا جس میں ڈی جی رینجرز سندھ اور جی او سی حیدرآباد سمیت فوجی اور سول اداروں کے ذمہ داران نے کی شرکت، اجلاس میں کورکمانڈرکراچی کو بریفنگ دی گئی۔کور کمانڈر کراچی نے بروقت تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔کورکمانڈرکراچی کی ہدایت پر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کم ہوئی ہے تاہم اس سے منسلک خطرات بدستور برقرار ہیں، اس حوالے سے کسی بھی قسم کی افراتفری سے اجتناب برتتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، صورتحال کے پیش نظر محتاط اور چوکنا رہنے اور لوگوں کو اس بارے مسلسل آگاہی دینے کی ضرورت ہے، خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کے انخلا اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے ریلیف کیمپس کے قیام سمیت ضروری اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کم ہوئی ہے تاہم اس سے منسلک خطرات بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طوفان غیر متوقع طور پر رفتار اور سمت تبدیل کر سکتا ہے، بھارت کے ساحل کے ساتھ ساتھ اس کا رخ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی طرف بھی ہے، ہمیں افراتفری سے اجتناب برتتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بپر جوائے انتہائی شدید طوفان میں تبدیل ہوا ہے جس کی سطح پر ہوائوں کی رفتار 140 سے 150 کلومیٹر ہے جبکہ اس کے مرکز میں 170 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ طوفان کراچی سے 440 کلومیٹر جنوب، ٹھٹھہ سے 430 کلومیٹر دور اور اورماڑہ سے 555 کلومیٹر جنوب مشرق میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان کے جون 14 کی صبح تک شمال کی سمت جبکہ بعد ازاں مشرق کی جانب رخ بدلنے کا امکان ہے۔ 15 جون کی سہ پہر یہ انتہائی شدید طوفان کی صورت میں سندھ کے جنوب مشرقی ساحلی علاقہ کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے ساحل کے درمیانی علاقہ میں ٹکرا سکتا ہے، سمندری طوفان کی وجہ سے ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، کراچی، میرپور خاص، عمرکوٹ، حیدرآباد، اورماڑہ، ٹنڈو الہٰ یار خان اور ٹنڈو محمد خان کے علاقے متاثر ہوں گے جہاں تیز اور تند ہوائوں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طوفان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ہر تین گھنٹے بعد رابطہ اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی تناظر میں صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ طوفان کے اثرات کی زد میں آنے والے علاقوں میں کمزور انفراسٹرکچر، بل بورڈز، کچی چھتوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کیلئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں، متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سمندری طوفان کا رخ بدستور شمال کی جانب رہا جبکہ 14جون کی صبح تک طوفان کا ٹریک شمال کی جانب رہےگا، 15جون کو رخ تبدیل کرنے کے بعد سہ پہر کے وقت دیہی سندھ کے کیٹی بندر اور بھارتی ریاست گجرات کو کراس کرے گا۔ طوفان کے مرکز اور اطراف میں ہوائیں 160 سے 180اور زیادہ سے زیادہ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہیں۔سمندری طوفان کے باعث دیہی سندھ کے ساحلی علاقوں میں آندھی و گرج چمک کے ساتھ 300 ملی میٹر بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ کراچی میں منگل کی شام سے بارش کا امکان ہے۔ سمندری طوفان کے اثرات کے سبب کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوسکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طوفان بھارتی ریاست گجرات کے شہر مانڈوی کے ساحل سے ٹکراگیا جہاں کم سے کم 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔ ان میں دو افراد سمندر میں بہہ گئے تھے۔بحیرہ عرب میں اونچی لہروں کے ساتھ موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں نے گجرات کے ساحلی علاقوں کو گھیر لیا، درخت اکھڑ گئے اور کئی گھروں کی دیواریں گرگئیں۔ گجرات کے 8 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ اسکولوں میں تعطیلات کا اعلان کردیا گیا۔پاکستان اور بھارت کے لیے خطرہ بننے والا سمندری طوفان بائپر جوائے پیش نظر پیشگی طور پر ماہی گیروں کو سمندروں سے واپس بلالیا گیا تھا اور ساحل کی قریبی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔