اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی زری پالیسی میں روزافزوں گرانی کے ستائے ہوئے پسماندہ طبقات کو امیددلائی گئی ہے کہ کوئی غیر متوقع صورتحال پیش نہ آئی تو اگلے مہینے سے مہنگائی میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں حکومت نے ایسی تجاویز رکھی ہیں جو گرانی کے سدباب میں مدد دیں گی۔ اسکے علاوہ اجناس کی عالمی قیمتوں میں اعتدال آ رہا ہے۔ جاری کھاتوں کا خسارہ کم ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو میں بھی کمی آئی ہے۔ زرعی شعبے کی نمو کپاس اور چاول کی فصلوں کے سوابہتر ہوئی ہے۔ برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی کے اقدامات کو درآمدات میں کمی نے زائل کیا ہے۔ مالیاتی خسارہ جو گذشتہ سال 9.3فیصد تھا کم ہو کر 6.3فیصد ہو گیا ہے۔ عالمی مہنگائی میں بھی کمی آئی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کا ایک سبب ملک میں سیاسی بے یقینی اور غیر ملکی قرضوں کا ناروا بوجھ بھی تھا توقع ہے کہ اگلے سال اس صورتحال میں بہتری آئے گی اور مہنگائی میں 5سے 7فیصد تک کمی آ جائے گی۔ سب سے زیادہ مہنگائی غذائی اشیا میں دیکھی گئی ۔ اس سال گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی جس کی وجہ سے غذائی اشیاسستی ہونے کا قوی امکان ہے،ا سٹیٹ بینک کی رپورٹ میںپٹرولیم مصنوعات، گاڑیوں اور ملکی سیمنٹ کی فروخت میں بڑی حد تک کمی کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سکڑائو کے رجحانات ہیں زری مالیاتی کمیٹی نے سود کی شرح 21فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے سبسڈی دینے کے سسٹم کی مخالفت کی ہے جس کی روشنی میں نئے بجٹ میں سبسڈی کم سے کم رکھی گئی ہے۔ جہاں تک ترقی کی شرح کا تعلق ہے تو 2023ءمیں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو خاصی سست رہی۔ اس سال قومی پیداوار نمایاں طور پر کم ہوئی یہی وجہ ہے کہ 24-2023ءکا بجٹ کسی قدر سکڑائو کی نشاندہی کر رہا ہے۔ لیکن امکان ہے کہ ختم ہونے والے سال کی نسبت اگلے سال زری شعبہ مختلف مثبت اقدامات کے نتیجے میں بہتری کارکردگی دکھائے گا جس کا قیمتوں کے ڈھانچے پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ بجٹ میں جو نئے ٹیکس لگائے گئے یا موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث کے مطابق ان سے مہنگائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرنسی اکائونٹ منجمد کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ سخت زرعی پالیسی، غیر ملکی بے یقینی کی کیفیت اور بیرونی کھاتوں پر مسلسل دبائو کے سبب اشیا کی ملکی طلب کم رہے گی جس سے اگلے سال اقتصادی بحال کا عمل اعتدال پر رہے گا۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے اور ظن و تخمین سے قطع نظر عام آدمی کی توقع یہی ہوتی ہے کہ اسے روز مرہ استعمال کی چیزیں خصوصاً غذائی اشیا اس کی مالی سکت کے مطابق ملتی رہیں مگر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ضروریات ز ندگی کی جس چیز کے دام بڑھ جائیں وہ کم نہیں ہوتے۔ ذخیرہ اندزوں اور منافع خوروں کا گٹھ جوڑ اس معاملے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ وقتی طور پر کسی چیز کے نرخ کم ہو بھی جائیں تو چند دنوں میں پھر بڑھ جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ سکے کی اکائی پیسہ ہوتا تھا آج پیسے کا نام و نشان نہیں ملتا۔ روپے کی قدر بہت گھٹ گئی ہے۔ افراط زر کا غلبہ ہے اور ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے جبکہ حکومت کے اپنے تئیں فراخ دلانہ اقدامات کے باوجود مزدور کی اجرت، ملازم کی تنخواہ اور پنشن بڑھتے ہوئے روزمرہ اخراجات کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی معاشی ٹیم کو زری پالیسی میں ایسی اصلاحات لانی چاہئیں جن سے پسماندہ اور متوسط طبقہ کیلئے ضروریات زندگی تک رسائی آسان ہو سکے۔
کشیدہ کیفیت میں ہے معلّقامید و بیم کے مابین دنیا فریقوں میں مکمل تصفیے تک رہے گی رات دن بے چین دنیا
پاکستان کی سیاست میں اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے اور شاید یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، اپوزیشن...
یورپی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں جانوروں سے بہت محبت ہے۔ حالانکہ میرے نزدیک جانوروں سے محبت میں ہم...
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی ہمیشہ سےپاکستان کیلئے ایک تشویشناک صورتحال رہی...
مولانا فضل الرحمن کے ملک کی صورتحال، سیاسی عدم استحکام ، کے پی اور خصوصاً بلوچستان میں امن و امان کے بگڑتے...
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کیلئے...
غالب کی عظمت کو تو اردو لٹریچر میں نہ کوئی پہنچ سکا ہے نہ کوئی گہنا سکا ہے لیکن اردو ادب اورانسانیت کی خدمت میں...
’’کیا آج مہنگائی کے دور میں صرف ایک ہزار روپے ماہانہ راشن الاؤ نس پر کسی کا گھر چل سکتا ہے؟یہاں جو ہیلی...