ٹرمپ عدالت سے گرفتار ،خفیہ دستاویزات چھپانے سمیت 37 الزامات ،صحت جرم سے انکار

14 جون ، 2023

میامی (اے ایف پی، جنگ نیوز)امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر عدالت میں پیشی کے موقع پر گرفتار کرلیا گیا، وہ اپنے خلاف خفیہ دستاویزات چھپانے انہیں جان بوجھ کر واپس نہ کرنے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے سمیت37الزامات پر عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نےخود کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے حوالے کیا ، میامی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق صدر نے وفاقی حکومت کی جانب سےعائد کئے گئے تمام الزامات میں صحت جرم سے انکار کیا ، انہوں نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹرتھ پر کہا کہ آج امریکا کی تاریخ کا ایک اور اذیت ناک دن ہے ، انہوں نے کہا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،ہم بحیثیت قوم زوال کا شکار ہوتے جارہے ہیں،سابق صدر آج بدھ کے روز 77برس کے ہو جائینگے، ٹرمپ پر مذکورہ الزامات ثابت ہوئے تو انہیں 100سال قید کی سزا ہوسکتی ہے ، ٹرمپ کو ڈپٹی مارشلز نے گرفتار کیا، وہ فیڈرل الزامات کا سامنا کرنے والے پہلے سابق امریکی صدر ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معتمد خاص والٹ ناؤٹا کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر ٹرمپ کے چند درجن حامیوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ، 45منٹ کی عدالتی کارروائی کے بعد ٹرمپ کو رہا کردیا گیا اور انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ،عدالت سے نکلتے ہی ایک شخص ٹرمپ کی گاڑی کے آگے آگیا تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے اسے دھکا دیکر ہٹادیا ، یہ سابق صدر کی گزشتہ 10ہفتوں میں دوسری بار گرفتاری تھی ،وہ امریکا کی تاریخ میں پہلے سابق صدر ہیں جنہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس سے قبل انہیں پورن اسٹار کو رقم دینے کے الزام میں مین ہٹن کی عدالت میں گرفتار کیا گیا تھا ، پیشی کے موقع پر ٹرمپ کے چند درجن حمایتی عدالت کے باہر جمع ہوئے جنہوں نے ٹرمپ پرالزامات عائد کرنے والے استغاثہ پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرنے کے بینرز اٹھا رکھے تھے ،سابق صدر نے بھی پراسیکیوٹر کو ٹھگ اور پاگل قرار دیا، اس موقع پر گھڑ سوار اور سائیکلوں پر سوار پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کسی بھی ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کیلئے موجود تھی ، سابق صدر کو اس وقت واشنگٹن ، فلوریڈا ، جارجیا اور نیویارک میں 4فوجداری مقدمات میں فرد جرم یا اسکروٹنی کا سامنا ہے جبکہ انہیں وائٹ ہائوس میں واپسی کی اپنی مہم سے قبل متعدد مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہے ، واضح رہے کہ سابق صدر جنہوں نے کیپٹل ہل پر حملوں کا دفاع اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی تعریف بھی کی تھی ، وہ اعلان کرچکے ہیں اگر وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو حملوں میں ملوث افراد کو معاف کردیں گے ۔