پارلیمنٹ ڈائری،9مئی کے واقعات، ہر رکن نے اپنی گفتگو کا حصہ بنایا

14 جون ، 2023

اسلام آباد(محمد صالح ظافر/خصوصی تجزیہ نگار) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آئندہ سال کا بجٹ زیر بحث ہے جس کی تجاویز کو لیکر ارکان اپنے جذبات ظاہر کرتے ہوئے سیاسی امور کو لازماً موضوع بحث بناتے ہیں اصولاً بجٹ کے بارے تقاریر میں ہر معاملے کو زیرغورلایا جاتا ہے یہ امر مشاہدے میں آیا ہے کہ نومئی کے واقعات کو ہر رکن نے اپنے اپنے انداز میں اپنی گفتگو کا حصہ بناتے ہوئے انہیں ملکی تاریخ کے اندوہناک ترین واقعات میں شمار کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ کے بارے میں تقاریر کے تیسرے دن پیپلزپارٹی بھی رائے زنی کے لئے اُتر آئی ہے اس جماعت کی جانب سے بحث میں پیشوائی کے لئے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ کو چناگیا جنہوں نے بجٹ کے محاسن بیان کر نے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ ان کی نپی تلی تقریر میں جہاں نومئی کے واقعات کو مذمت کا ہدف بنایا گیا اور تقاضا کیا کہ اس کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دینے میں کسی تساہل نہ برتا جائے انہوں نے ملکی ترقی و استحکام کے لئے افہام وتفہیم کے جذبے کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سید خورشید احمدشاہ جنہیں گزشتہ حکومت نے طویل عرصے تک پابند سلاسل رکھا مختلف عوارض میں مبتلا رہنے کے بعد اب قدرے روبصحت ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر میں جذبات کی فراوانی کے باوجود مار دھاڑ کا تاثر نہیں تھا جماعت اسلامی کے اکلوتے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے بجٹ تجاویز کے بارے میں کسی حد تک تلخ تھے۔ انہوں نے روایتی طور پر چترال کے مسائل کو اپنی تقریر میں ترجیح دی اور اپنے حلقہ نیابت کے لئے راحت رسانی کی بات کی وہ جماعت اسلامی کی حکمت عملی کے عین مطابق سود کے خلاف طبع آزمائی کرتے رہے اور بار بار انتباہ کرتے رہے کہ سودی معیشت ملکی ترقی کی ضامن نہیں ہو سکتی انہیں بجٹ میں پیش کردہ بعض تجاویز پسند تھیں تاہم انہوں نے ترجیحات کے ذیل میں سخت تنقید کی ان دنوں جماعت اسلامی نے میئر کراچی کے چنائو کو اپنے سیاسی دستور العمل کا رکن قرار دے رکھا ہے وہ اس بارےتبصرہ آرائی سے گریزاں رہے بجٹ پر بحث میں قومی اسمبلی کے گیارہ ارکان حصہ لے چکے ہیں تقاریر کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک جاری رہے گا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بجٹ تقریر کا انتظار ہے اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ایوان اس سے محروم رہے گا یونکہ ان کی توجہ سندھ میں آئے ہولناک طوفان کی جانب مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں سابق صدر آصف علی زرداری کے پورے بجٹ اجلاس سے ہی غیر حاضر رہنے کا اندیشہ ہے وہ حکمران حلیف جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان تعلقات کو لیکر قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا کہ پارلیمانی راہداریوں میں نادرا چیئرمین طارق ملک کے استعفیٰ کی اطلاع نے گرمی جذبات میں اضافہ کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ نون نجم سیٹھی کو ان کی شاندار گزشتہ کارکردگی کے باعث اس منصب پر برقرار رکھنے کی خواہاں ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے مربی ذکا اشرف کو اس عہدے پر متمکن دیکھنا چاہتے ہیں گمان یہی ہے کہ وزیراعظم اس معاملے میں بھی اپنا اختیار استعمال کریں گے اورنجم سیٹھی کو ہی مستقل چیئرمین نامزد کردیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں حکومتی جماعتیں اور تحریک انصاف مدمقابل ہوکر بجٹ تجاویز پر زوردار بحث کررہے ہیں اس میں وہ تندی عنقا ہو گئی ہے۔ جو مسلم لیگ نون کے ڈاکٹر آصف سعید کرمانی کے اس مطالبے پر شعلہ بار ہوگئی تھی کہ نومئی کے واقعات کے لئے تحریک انصاف کا چیئرمین مزارقائد اور جی ایچ کیو جاکر معافی مانگے ان کے اس استدلال پر تحریک انصاف کے ارکان بھڑک اٹھے تھے کہ اس ملک دشمن جماعت کو پاکستان میں سیاست کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز کو غم کھائے جارہا تھا کہ بجٹ میں بھاری رقوم مختلف مدات کے لئے وقف کردی گئی ہیں ان کے لئے روپیہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ مسلم لیگ نون کے پروفیسر عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں ایجی ٹیشن، دھرنے بے سروپا احتجاج جاری رہے گا تو سرمایہ کار ملک کا رُخ کیونکر کریں گے انہوں نے یاد دلایا کہ قومی امور کو درست رکھنے میں حزب اختلاف کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے ہمارے ہاں مخالفت کے دعویدار پارلیمنٹ سے ہی بھاگ نکلے ایسے میں وہ کیا کردار ادا کرے گی سینیٹر سید وقار مہدی (پیپلزپارٹی) نے خیال ظاہرکیا کہ بجٹ ایسے مشکل حالات میں عمدگی سے مرتب کیاگیا ہے جب گزشتہ حکومت نے معیشت کا دھڑن تختہ کردیا تھا اور ایسی پالیسی بنائی تھی کہ آئندہ کے سفر میں کٹھائیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سیدوقار مہدی نے گزشتہ سال کے سیلاب کے متاثرین کے لئے مزید رقوم مخصوص کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ سینیٹر رضا ربانی نے نومئی کے تمام کرداروں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف فوری کارروائی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پارلیمانی راہداریوں میں استفسار کیا جاتا رہا کہ اب جبکہ متعلقہ حکام نے 9مئی کے مکروہ واقعات میں ماخوذ بدنما افراد کے بارے تمام تر ثبوت یکجا کر لئے ہیں تو انہیں مزید خرابیوں کے لئے ماحول بنانے کی آزادی کیوں حاصل ہے۔؟