سیاسی منظر نامہ، پلڈاٹ کی پارلیمنٹرینزکیساتھ نشست ، سیاسی ٹمپریچرکم

14 جون ، 2023

اسلام آباد ( طاہر خلیل ) سنگین سیاسی پولورائزیشن کے لمحات میں اسلام آباد میں پلڈاٹ نے حکومت اپوزیشن ( پی ٹی آئی ) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ٹیبل پر جمع کر کے سیاسی ٹمپریچر کو قدرے کم کرنے میں مدد کی ،ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے گو مگو کی کیفیت نے ابہام پیدا کر رکھا تھا ، وزیر اعظم بار بار یقین دلاتے رہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے ،لیکن دو اتحادی لیڈروں کے بیانات نے لوگوں میں شکوک پید اکئے اور پھر ایسا تاثر ابھرنے لگا کہ حکومت انتخابات مقررہ 8 اکتوبر کی ڈیٹ پر قائم نہیں ، اور اسمبلی کی میعاد میں ایک سال اضافے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور ہور ہا ہے، حقیقت احوال بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ اسمبلی کی معیاد بڑھانے کیلئے بعض اتحادی وزیر اعظم اور لندن سے رابطے بڑھا رہے ہیں ، اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ایسی اطلاعات تھیں کہ حکومت قومی اسمبلی کی معیاد میں اضافے کی قرار داد کی تیاری میں ہے ، اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشاورت بھی کی گئی تاہم ایوان صدر اس تجویز پر عملدرآمد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا ، قانونی ماہرین کی رائے تھی کہ اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے سے قبل حکومت کو ملک میں لا اینڈ آرڈر یا اقتصادی مشکلات کے حوالے سے ایمر جنسی ڈکلیئر کرنا پڑے گی او رایمر جنسی ڈیکلریشن صدر کی منظوری کےبغیر جاری نہیں ہو سکتا ،منگل کو پلڈاٹ کے سیمینار میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بریکنگ نیوز دی کہ اگست میں آئینی معیاد مکمل ہونے پر قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی اور نگران حکومت آجائے گی ، الیکشن اکتوبر میں ہوں گے ،لا منسٹر نے یہ وضاحت بھی کرد ی کہ ملک میں ایمر جنسی والی صورت حال نہیں اسلئے قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع والا معاملہ ٹھپ ہو گیا اور قانونی حلقوں میں ایک موضوع زیر بحث ہے کہ کیا انتخابات کی ڈیٹ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے ؟ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے جس میں موقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں تجاوز کیا، انتخابات کی ڈیٹ مقرر کر نا سپریم کورٹ کا نہیں الیکشن کمیشن کاکام ہے، قانونی حلقوں میں سوال اٹھایا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2007 میں درج ہے کہ الیکشن کی تاریخ صدر مقرر کر ے گا۔ الیکشن کمیشن کےپاس ایسا کوئی اختیار نہیں، الیکشن کمیشن کے پاس تین طرح کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار ہے 1۔صدر کا الیکشن ، 2۔ سینٹ الیکشن اور 3۔ ضمنی انتخابات پلڈاٹ سیمینار میں لا منسٹر نے مجوزہ انتخابی اصلاحات کا مسودہ بھی کھول دیا جس میں تجویز کیا جارہا ہے کہ قومی انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر کے پاس نہیں ہو گااور یہ اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہو گا ،اس کے ساتھ حکومت ایک اور قانون بنانے کا ارادہ کر چکی ہے جس کے ذریعے اسمبلی کی تحلیل کے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیار کو محدود کیا جا رہا ہے ،نئے قانون میں یہ شامل کیا جائے گاکہ اسمبلیوں کی مدت 5 سال ہو گی ، اگر مقررہ وقت سے پہلے اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو پھر بقایا مدت کیلئے انتخابات ہوں گے اور 5 سال بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہی ہو اکر یں گے ۔ احمد بلال محبوب اور آسیہ ریاض کی کاوشیں لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے اپنے ادارے کے ذریعے ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے فروغ اور سیاسی استحکام کیلئے تمام سیاسی گروپس کو ایک ٹیبل پر جمع کردیا ، تقریب میں موجود پارلیمنٹرینز کے ساتھ اسلام آباد کی ڈپلو میٹک کمیونٹی کیلئے بھی ایک مفید اورپر افز ا نشست تھی ، اسکے ساتھ تازہ خبر ہے خان صاحب کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے، ریکارڈ ثبوت تیار ، کیس ملٹر ی کورٹ میں چلے گا۔