اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے،اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے ،چیف جسٹس

17 جون ، 2023

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)سپریم کورٹ ( ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز) ایکٹ مجریہ 2023کیخلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے، جواب گزار نظرثانی کا اختیار سماعت بڑھانے کی بات تو کر رہے لیکن گرائونڈز نہیں بتا رہے ؟ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے]اگر احتیاط کے ساتھ کی جائے تو ہم آئین کے آرٹیکل184(3) کے مقدمات کے بارے میں کسی بھی دا درسی کو خوش آمدید کہیں گے،تاہم اصل سوال یہ ہے کہ 184/3کے مقدمات کی نظرثانی میں کہاں تک توسیع کی جاسکتی ہے،جواب گزار نظرثانی کا اختیار سماعت بڑھانے کی بات تو کر رہے ہیں؟ لیکن اس کے گراونڈز نہیں بتا رہے ؟ یہ اصل سوال ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟ چیف جسٹس،عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازلاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز کیس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل ،منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ ( ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز) ایکٹ مجریہ 2023 کا دفاع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ رٹ پٹیشنز میں ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تک فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پور پورا ا موقع ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی کا دائرہ کار محدود رکھا ہے لیکن آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ براہ راست مقدمہ سنتی ہے اور اس نے اپنا دائرہ کار وسیع بھی کیا ہے اس لیے نظرثانی کا دائرہ وسیع ہونے سے فریقین عدالت کو پوری طرح قائل کر سکیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور متعین ہیں، مقننہ عہد حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتی ہے ، سپریم کورٹ ( ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز) ایکٹ مجریہ 2023آئین کے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات سے متعلق پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش کا نتیجہ ہے ، اس ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق تین کے فیصلے کیخلاف اپیل پانچ رکنی بنچ سنے گا اورپانچ رکنی بنچ میں وہ تین جج بھی شامل ہونگے جنھوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوگا،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اصل مقدمہ تو پھر یہ ہے کہ دونوں قوانین میں مماثلت ہے،ایک قانون میں آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کا حق دیا جائے اور دوسرے قانون میں چاہتے ہیں نظرثانی ،اپیل کی طرز پر ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ تو کھلا تضاد ہے، نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے، اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی نہیں حاصل ہوسکتا،اپیل اور نظرثانی میں زیر غور معاملہ الگ الگ ہوتا ہے،فاضل جج کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا الگ چیز ہے اور نظر ثانی کا دائرہ اختیار الگ ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے جبکہ نظر ثانی میں فیصلے میں موجود سقم کو دیکھا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے، عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ( پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ کو عدالت نے معطل کر رکھا ہے،اس وقت صرف سپریم کورٹ ( ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز) ایکٹ مجریہ 2023 نافذ العمل ہے،بعد ازاںعدالت نے سماعت سوموار 19جون تک ملتوی کر دی۔