بھارتی تعلیمی نصاب سے کشمیر، مسلمانوں سکھوں کے ابواب ہٹانے پر احتجاج

17 جون ، 2023

نئی دہلی(کے پی آئی) بھارت کے 33 ماہرین تعلیم اور سیاسیات نے بھارتی تعلیمی نصاب کی کتابوں سے جموں وکشمیر، مسلمانوں، سکھوں سے متعلق ابواب ہٹانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔33ماہرین تعلیم اور سیاسیات کے ماہرین کے ایک گروپ نے، جو مختلف مراحل میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی)کی ٹیکسٹ بک ڈیولپمنٹ کمیٹی کا حصہ رہے ہیں، کونسل کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ حال ہی میں کی گئیںیکطرفہ تبدیلیوں کی وجہ سے ان کے نام سیاسیات کی نصابی کتابوں سے ہٹا دیے جانے چاہیے، جن میں انھوں نے تعاون کیا تھا۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مختلف خیالات کے باوجود، انہوں نے سیاسیات میں سکول کی نصابی کتابوں کا قابل ذکرسیٹ بنانے کے لیے مل کر کام کیا تھا۔ تاہم، اب این سی ای آر ٹی نے ان نصابی کتابوں میں بہت سی اہم تبدیلیاں کی ہیں اور بہت سے ابواب/حصوں کو ہٹا دیا ہے۔ان کے خط میں کہا گیا ہے، کون یہ طے کرتا ہے کہ کیا ناقابل قبول ہے اور کتابوں میں کیا ہونا چاہیے، اس بات کوشفافیت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پردے کے پیچھے رکھا گیا ہے۔مزید لکھا گیاہے کہ،چونکہ اصل متن میں کئی ترامیم کی گئی ہیں، جس سے وہ اصل نصابی کتابیں الگ ہی کتابوں میں بدل دی گئی ہیں، اس لیے ہمارے لیے یہ دعویٰ کرنا ہے کہ یہ وہی کتابیں ہیں جو ہم نے تیار کی تھیں، اور ان کے ساتھ ہمارا اپنانام جوڑنا مشکل لگتا ہے۔پالشیکر اور یادو 2006 میں شائع ہونے والی این سی ای آر ٹی کی سیاسیات کی نصابی کتابوں کے خصوصی صلاح کار تھے ۔ ان کامطالبہ ہے کہ اب ترمیم شدہ کتابوں سے ان کے نام ہٹا دیے جائیں۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ،یہ ہمارے لیے شرمندگی کا سبب ہے کہ ہمارے نام ان مسخ شدہ اور تعلیمی طور پر بے معنی نصابی کتابوں کے خصوصی صلاح کار کے طور پر لیے جا رہے ہیں۔