اسلام آباد (ایجنسیاں)سینیٹ نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخالفت اور شدید احتجاج کے باوجود الیکشن کمیشن کو صدر سے مشاورت کیے بغیر یکطرفہ طور پر انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کا اختیار دینے کے حوالے سے انتخابی ایکٹ (ترمیمی ) بل 2023ءکثرت رائے سے منظور کر لیاجس کے تحت انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیارصدرمملکت سے واپس لے لیا گیا ۔بل کے مطابق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نیا شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے گا جبکہ الیکشن پروگرام میں ترمیم بھی کر سکے گا۔بل کے ذریعے تاحیات نااہلی کا باب بھی بندکردیاگیا‘بل کے متن کے مطابق آئین میں جس جرم کی مدت سزا متعین نہیں، اس میں نااہلی پانچ برس سے زیادہ نہیں ہوگی‘متعلقہ شخص قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔مجوزہ قانون پر اعتراض اٹھاتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کے تعین کا کلی اختیار الیکشن کمیشن کو دینا زیادتی ہوگی‘کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی میں شمار نہیں ہوتی‘اس کیلئے آئینی ترمیم لاناہوگی تاہم وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ بل میں صدر کے آئین میں موجود کردار کو نہیں چھیڑا گیا ہے ۔جہاں آئین خاموش ہے وہاں انتخابی ایکٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے ۔ جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی مخصوص افراد کے لئے کی جارہی ہے،اگر ایسا نہیں ہے تھا تو اس کو ایجنڈے سے ہٹ کر سپلیمنٹری ایجنڈے میں کیوں لایا گیا؟ یہ کچھ لوگوں کے لئے قانون سازی کی جا رہی ہے‘مخصوص شخصیات کو فائدہ پہنچانے کے لیے پارلیمان کے اس فلور کو استعمال کیا جا رہا ہے‘ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور کسی میں اس کا احساس تک نظر نہیں آتا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کوسینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں مذید ترمیم کا بل اضافی ایجنڈے کے طور پر پیش کردیا گیا‘ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور سینیٹر شہادت اعوان نے الیکشن یکٹ ترمیمی بل2023 پیش کیا۔ ترامیم میں کہا گیا کہ سیکشن 57 (1) کے تحت کمیشن عام انتخابات کی تاریخ یا تاریخوں کا اعلان سرکاری گزٹ میں نوٹی فکیشن کے ذریعے کرے گا اور حلقوں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا مطالبہ کرے گا۔سیکشن 58 کے تحت سیکشن 57 میں موجود کسی بھی چیز کے علاوہ کمیشن اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت نوٹی فکیشن کے اجرا کے بعد کسی بھی وقت الیکشن کے مختلف مراحل کے لیے اس نوٹی فکیشن میں اعلان کردہ انتخابی پروگرام میں ایسی تبدیلیاں کر سکتا ہے یا جاری کر سکتا ہے یا اس ایکٹ کے مقاصد کے لیے ایک نیا انتخابی پروگرام جس میں رائے شماری کی تازہ تاریخ (تاریخوں) کے ساتھ تحریری طور پر ریکارڈ کیا جانا ضروری ہے۔قبل ازیں سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ترامیم الیکشن کمیشن کے کردار کو مزید فعال بنائیں گی اور انتخابی شیڈول میں بھی تبدیلیاں ممکن بنائیں گی۔یہ ترمیم تمام ابہام کو دور کرنے کے لیے لائی جارہی ہے۔دوسری جانب شہزاد وسیم نے کہا کہ قانون سازی صرف آئین کے تحت ہو سکتی ہے۔آئین انتخابات کی تاریخ کے بارے میں بالکل واضح ہے اور یہ صدر اور گورنر دونوں کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار دیتا ہے۔الیکشن کمیشن کو قانون کے تحت دیے گئے اختیارات سے تجاوز کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
اسلام آباد وزارتِ خزانہ نے سول حکومت کے اخراجات سے متعلق میڈیا رپورٹس پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا...
کراچی بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گیدڑ بھبکی دی ہے کہ اگر دوبارہ اشتعال انگیزی کی گئی تو بھارت فیصلہ کن...
اسلام آبادآرمی راکٹ فورس کمانڈ کی طرف سے جمعرات کو مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4، زمین سے لانچ کیے جانے والے...
کراچی ایرانی وزیر خارجہ کا برکس ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کا مطالبہ، امریکی اتحادی متحدہ عرب...
اسلام آبادپاکستان نے چین کی کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کا تاریخی اجراءکر دیا، 25کروڑ ڈالر...
اسلام آ باد کس کس کو کیا تحائف ملے؟ توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ سامنے آگیا۔ کابینہ ڈویژن نےجنوری سےمارچ دو...
اسلام آباد سپریم جوڈیشل کونسل پاکستان نے ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے اپنے بعض...
بیجنگ امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر روانہ ہوئے تو انہیں توقع تھی کہ چینی صدرانہیں گلے ملیں گے اور اس کا انہوں...