میئر کراچی کے انتخاب کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر یوم سیاہ، احتجاجی مظاہرے

17 جون ، 2023

کراچی (اسٹاف ر پو ر ٹر/ایجنسیاں )امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر پیپلز پارٹی کی فسطائیت و جمہوریت کش رویے، مینڈیٹ پر ڈاکے اور الیکشن پر قبضے اور میئر کراچی کے جعلی انتخاب کے خلاف جمعہ کو کراچی سمیت ملک گیر سطح پر یوم سیاہ منایا گیا، کراچی میں اہم پبلک مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی گئیں، سیاہ جھنڈے لہرائے گئے، مظاہرین نے پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور نعرے لگائے،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ قائدین پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے اب اسے پورے پاکستان میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگااور جواب دینا ہو گا کہ کراچی میں عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے کیوں جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ پورا ملک کراچی کے عوام کی پشت پر کھڑا ہے، پیپلز پارٹی کو پورا پاکستان مینڈیٹ چور اور ڈاکو کہہ رہا ہے۔ کراچی سے چترال تک سندھ، پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں عوام نے احتجاج کیا ہے اور یہ نعرہ گونج گیا ہے کہ ”گلی گلی میں مچ گیا شور، پکڑو پکڑو مینڈیٹ چور“ ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ اور میئر کا جعلی انتخاب قبول نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی فسطائیت،حکومتی جبر و تشدد اورغیر جمہوری، غیر آئینی ہتھکنڈوں کے خلاف اور اپنا مینڈیٹ واپس لینے کے لیے ہر قسم کی آئینی، قانونی،جمہوری جدو جہد جاری رکھیں گے،حقوق کراچی تحریک آج ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، ہم عوام سے رابطے کریں گے اور بہت جلد شہر میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کریں گے، آج جس طرح عوام پر جعلی میئر کو مسلط کیا ہے اسے عوام تسلیم نہیں کریں گے، عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے ہمارے میئر کا راستہ روکا اور جعلی میئر بنا دیا گیا،پی ٹی آئی کے 31 منتخب نمائندوں کو غائب کیا گیا اور ان کے گھر والوں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور کلفٹن کے فلیٹ اور فارم ہاؤس میں محصور کیا گیا۔ وہ آج موجود نہیں ہیں لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، ہم 31 منتخب نمائندوں کے غائب کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور عدالت میں بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے غیر منتخب شخص کو میئر بنانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اور عدالت عالیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ترمیمی بل کے خلاف جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ آیا تو یہ میئر کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا اور دوبارہ انتخاب ہوگا،ہم نے 6یوسیز کے حوالے سے جن کے فارم 11اور 12ہمارے پاس موجود ہیں اب یہ کیس ہم نے سپریم کورٹ میں دائر کر دیا ہے اور امید ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا اور اس سے ہماری عددی اکثریت میں اضافہ ہو گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے کس منہ سے کراچی کے چارٹر کی بات کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہی تو کراچی کے وسائل، حقیقی نمائندگی، مردم شماری اور ملازمتوں پرڈاکا ڈالا ہے۔