کسی کو تاحیات نااہل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، اعظم تارڑ

17 جون ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی کو تاحیات نااہل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،سینئر صحافی دی نیوز مہتاب حیدر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر حکومتی کنفیوژن بنیادی طور پر شکوہ اور جواب شکوہ ہے،ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد میں بہت تاخیر کی ہے، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں کئی جگہ الیکشن کی تاریخ دینے کا ذکر نہیں ہے، 1976ء کے قانون میں انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس تھا، جنرل ضیاء الحق نے وہ اختیار آرڈیننس کے ذریعہ صدر کو تفویض کردیا تھا، اب قانون میں ترمیم کر کے انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کو دیدیا گیا ہے، پارلیمانی کمیٹی میں حکومتی ارکان کے ساتھ پی ٹی آئی کے رکن بیرسٹر علی ظفر بھی شامل تھے۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں نااہلی کی وجوہات اور اہلیت کی وضاحت دی گئی ہے، آرٹیکل 62کے تحت کوئی بھی شخص کرمنل کورٹ سے سزا پوری کرنے کے پانچ سال بعد انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے، 62 ون ایف میں کہا گیا ہے کہ جو شخص صادق اور امین نہیں ہوگا وہ نااہل ہوجائے گا، سپریم کورٹ نے تشریح کی کہ آئین و قانون میں نااہلی کی مدت متعین نہیں اس لیے قانون میں تبدیلی تک یہ تاحیات نااہلی ہوگی، آج قانون میں لکھ دیا گیا ہے کہ آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا وہاں نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینا اور سیاسی جماعت بنانا بنیادی حق ہے، قانون سازی پارلیمان کا کام ہے، قانون کی تشریح کیلئے عدالت میں جایا جاسکتا ہے، کسی کو تاحیات نااہل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔