تاحیات نااہلی کا باب بند، سینیٹ، الیکشن کمیشن کو صدر سے مشاورت کئے بغیر انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار دینے کا بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج

17 جون ، 2023

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ ،خصوصی رپورٹر ،ایجنسیاں) سینیٹ نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخالفت اور شدید احتجاج کے باوجود الیکشن کمیشن کو صدر سے مشاورت کیے بغیر یکطرفہ طور پر انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کا اختیار دینے کے حوالے سے انتخابی ایکٹ (ترمیمی ) بل 2023ءکثرت رائے سے منظور کر لیاجس کے تحت انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیارصدرمملکت سے واپس لے لیا گیا ۔بل کی منظوری کے موقع پراپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتےہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا،بل کے مطابق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نیا شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے گا جبکہ الیکشن پروگرام میں ترمیم بھی کر سکے گا۔بل کے ذریعے تاحیات نااہلی کا باب بھی بندکردیاگیا،بل کے متن کے مطابق آئین میں جس جرم کی مدت سزا متعین نہیں، اس میں نااہلی پانچ برس سے زیادہ نہیں ہوگی،متعلقہ شخص قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کوسینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں مذید ترمیم کا بل اضافی ایجنڈے کے طور پر پیش کردیا گیا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور سینیٹر شہادت اعوان نے الیکشن یکٹ ترمیمی بل2023 پیش کیا۔ ترامیم میں کہا گیا کہ سیکشن 57 (1) کے تحت کمیشن عام انتخابات کی تاریخ یا تاریخوں کا اعلان سرکاری گزٹ میں نوٹی فکیشن کے ذریعے کرے گا اور حلقوں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا مطالبہ کرے گا۔سیکشن 58 کے تحت سیکشن 57 میں موجود کسی بھی چیز کے علاوہ کمیشن اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت نوٹی فکیشن کے اجرا کے بعد کسی بھی وقت الیکشن کے مختلف مراحل کے لیے اس نوٹی فکیشن میں اعلان کردہ انتخابی پروگرام میں ایسی تبدیلیاں کر سکتا ہے یا جاری کر سکتا ہے یا اس ایکٹ کے مقاصد کے لیے ایک نیا انتخابی پروگرام جس میں رائے شماری کی تازہ تاریخ (تاریخوں) کیساتھ تحریری طور پر ریکارڈ کیا جانا ضروری ہے،مجوزہ قانون پر اعتراض اٹھاتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کے تعین کا کلی اختیار الیکشن کمیشن کو دینا زیادتی ہوگی،کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی میں شمار نہیں ہوتی،اس کیلئے آئینی ترمیم لاناہوگی،شہزاد وسیم نے کہاکہ اگر یہ اتنی سادی بات تھی تو اضافی ایجنڈا لانے کی کیا ضرورت تھی ، کسی بھی قانون سازی کو آئین سے اوپر نہیں ہونا چاہیے، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ بل میں صدر کے آئین میں موجود کردار کو نہیں چھیڑا گیا ہے ۔جہاں آئین خاموش ہے وہاں انتخابی ایکٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے ۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں یہ اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے، جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی مخصوص افراد کیلئے کی جارہی ہے،اگر ایسا نہیں تو اس کو ایجنڈے سے ہٹ کر سپلیمنٹری ایجنڈے میں کیوں لایا گیا؟ یہ کچھ لوگوں کیلئے قانون سازی کی جا رہی ہے،مخصوص شخصیات کو فائدہ پہنچانےکیلئے پارلیمان کے اس فلور کو استعمال کیا جا رہا ہے، عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور کسی میں اس کا احساس تک نظر نہیں آتا۔ سینیٹر حافظ عبدالکریم نےبل میں ترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ بعض ادارے سیاستدانوں کو کبھی 5سال کیلئے اور کبھی پوری زندگی کیلئے نااہل کردیتے ہیں اس حوالے سے ترمیم پیش کرتا ہوں کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی اہلیت اور نااہلیت آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں موجود ہے اور کسی بھی رکن اسمبلی کی نااہلیت 5سال سے زائد نہیں ہوگی ،سینیٹر دلاور خان نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی سیاستدان اور رکن اسمبلی کی نااہلی کے بارے میں آئین میں خاموشی ہے اور اسی وجہ سے ملک کا تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف اور جہانگیر ترین اس کا شکار ہوئے ہیں، پارلیمنٹرین کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے فیصلے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ہوں،یہ ڈریکونین قانون ہے ، وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاکہ اس ایوان کا اختیار قانون سازی ہے، بدقسمتی سے ہم نے اپنی داڑھی خود ہی ان کے ہاتھوں میں دی ہے، عدالتوں کا اختیار یہ نہیں کہ وہ پارلیمان کا اختیار غضب کرے اور آئین لکھ دے، اپنے اختیارات کو ختم نہ کریں، ہمیں اپنے تعصب کی عینک کو اتارنا ہوگا ،انہوں نے کہاکہ اس ترامیم کا مطلب ہے کہ کسی بھی منتخب رکن اسمبلی کی نااہلی آئین کے آرٹیکل62اور 63کے تحت ہونی چاہیے اور جہاں پر آئین میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے تواس کمی کو پورا کرنے کیلئے یہ ترامیم ہیں کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی نااہلی 5سال سے زائد نہیں ہوگی ، قانونی سقم کی وجہ سے سینکڑوں پارلیمینٹرینز کو عمر بھی کیلئے گھروں کو بھجوا دیا گیا ،یہ ان کے آئینی اور قانونی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر یوسف رضا گیلانی نے آئینی ترامیم کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون کا نشانہ مجھے بنایا گیا ہے ،میں اپنی سزا بھگت چکا ہوں ، آنے والوں کیلئے یہ سزا نہیں ہونی چاہیے، سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ یہ اچھی ترمیم ہے ہم سب کو اس کی حمایت کرنی چاہیے ، طاہر بزنجو نے کہاکہ ہم سب کو متفقہ طور پر اس ترمیم کی حمایت کرنی چاہیے ، عبدالغفور حیدری نے کہاکہ پارلیمنٹ کو ہر حال میں سپریم ہونا چاہیے،سینیٹر ڈاکٹر ہمایون مہمند نے کہاکہ جب ایک قانون مخصوص مقاصد کیلئے بنایا جاتا ہے تو یہ درست نہیں ۔