اسلام آباد (کامرس رپورٹر)چین پاکستان کومشکل حالات سے نکالنے کیلئے میدان میں آگیا، سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ چین سے ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہناہےکہ انہوں نے کہا کہ چین سے ایک ارب ڈالرجمعہ یا سوموارکوآجائیں گے،رواں ہفتے ہم نے پیشگی ادائیگی کی تھی،چین یہ رقم واپس کر رہاہے‘30جون تک مزیدایک ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے جبکہ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ کبھی بھی 9ویں جائزے کا حصہ نہیں تھا‘اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں ‘آئی ایم ایف کے ساتھ معاملے کو خوش اسلوبی اور دوستانہ طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو چین سے ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں جبکہ 30کروڑ ڈالر چند روز میں مل جائیں گے ، چین کی جانب سے ملنے والا ایک ارب ڈالر کمرشل قرضہ ہے۔چین سے مزید ایک ار ب ڈالر سیف ڈیپازٹ رواں ماہ رول اوور ہو جائےگا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے چین کو ایک ارب30کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے کی مقررہ تاریخ سے قبل واپسی کر دی تھی اس کی مقررہ تاریخ 26جون اور 29جون تھی ،اس ادائیگی کے بعد چین نے ایک ار ب ڈالر کا کمرشل قرضہ فراہم کر دیا ہے، ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چین کی قائم مقام سفیر کو ری فنانسنگ تیز کرنے کی درخواست کی تھی ، ایک ارب ڈالر قرضہ چائنا ڈویلپمنٹ بنک جکبہ 30کروڑ ڈالر بنک آف چائنا سے لیا گیا ہے، سٹیٹ بنک کے ترجمان نے ایک ارب ڈالر ملنے کی تصدیق کر دی ہے ، یہ رقم سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اکائونٹ میں جمعہ کو منتقل ہو گئی ہے،ادھر قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈارنےکہاکہ جو ہم نے قرض واپس کیا وہ دوبارہ مل رہا ہے، الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے،بجٹ اسٹریٹجی پیپر میں تاخیر کی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں تاخیر تھی،آئی ایم ایف نے بیرونی فنانسنگ کی شرائط رکھی جسے پورا کر رہے ہیں، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،اسمگلنگ کم ہوئی ہے مگر ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ میں 223 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کیے گئے، کراچی پورٹ پر کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر پر چیئرمین ایف بی آر سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سی پی آئی 29 فیصد اور کور انفلیشن 20 فیصد کے لگ بھگ ہے‘ساڑھے 3فیصد شرح نمو حاصل کی جاسکتی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ غیر معمولی منافع پر ٹیکس سے متعلق ترمیم کی گئی ہے، وفاقی حکومت نے اس پر قانون شامل کیا ہے اور وہی تناسب کا فیصلہ کرے گی، 99 ڈی کے قانون کے تحت 50 فیصد تک ٹیکس غیرمعمولی منافع پر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نان فائلر پر 0.6 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس معیشت کو دستاویزی کرنے کے لیے لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بینک آف چائنا کے ساتھ 30 کروڑ ڈالر پر بات چیت چل رہی ہے، چین کے سواپ معاہدے کے تحت بھی ڈالرز آئیں گے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایک گیس پائپ لائن کا اثاثہ 50 ارب ڈالر پاکستان کے پاس ہے، ریکوڈک سے 6 ہزار ارب ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پرعزم ہے،اتحادی حکومت نے پہلے ہی سیاسی قیمت پر کئی مشکل فیصلے کئے ہیں، معاملے کےخوش اسلوبی سے حل کیلئے ہمارا آئی ایم ایف کیساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ اگرچہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ کبھی بھی 9 ویں جائزہ کا حصہ نہیں رہا تاہم آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے وزیراعظم کے وعدے کے مطابق وزارت خزنہ نے آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ بجٹ کے اعدادوشمارشئیرکئے۔
اسلام آباد سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے منسوب سائفر سے متعلق طویل عرصے سے جاری سیاسی تنازع ایک بار پھر اس...
اسلام آباد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر...
لاہور پاکستان مسلم لیگ کے صدر محمد نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے ملاقات کی جس میں پاکستان...
راولپنڈی 4رکنی میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل میں عمران خان کاطبی معائنہ مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گئی ۔ جیل...
اسلام آباد نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے سعودی عرب ، ایران اور متحدہ عرب امارات کے میں...
اسلام آباد روس نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی نہ صرف علاقائی تجارت بلکہ اہم...
کراچی امریکا کی ایران، امارات اور چین میں تہران سے منسلک 50 اداروں پر نئی پابندیاں، تیل و گیس ٹینکرز، مالیاتی...
کراچی ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر کامران بخاری نے کہا ہے کہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا بغیر جنگ مسئلہ حل...