’’بلاول بھٹو کے غیر ملکی دوروں کی نصف سنچری‘‘

17 جون ، 2023

اسلام آباد (فاروق اقدس/ تجزیاتی رپورٹ) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو رواں ماہ کے آخری ہفتے میں چین اور جاپان کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ چین کے دو روزہ دورے کے دوران وہ ’’سمر ڈیوس‘‘ کانفرنس میں شرکت کریں گے جبکہ جاپان میں ان کی سرکاری مصروفیات اپنے وفد کے ہمراہ ہوں گی جہاں وہ اپنے جاپانی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں میں دوطرفہ امور پر بات چیت بالخصوص پاکستانی ہنرمندوں کیلئے روزگار کے مواقعوں میں وسعت کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دوروں کے ساتھ ہی ان کی وزیر خارجہ کی حیثیت سے بین الاقوامی سفارتکاری کیلئے غیر ملکی دوروں کی نصف سنچری مکمل ہو جائے گی۔واضح رہے کہ27اپریل 2022 کو وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ نے حلف اٹھایا تاہم ’’بوجوہ‘‘ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 27 اپریل کو بلاول بھٹو زرداری سے بحثیت وفاقی وزیر ایوان صدر میں حلف لیا۔ بلاول بھٹو اس سے قبل لندن بھی گئے اور میاں نواز شریف سے بھی ملے۔ وزیر خارجہ کے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد اگلے روز ہی وہ وزیراعظم کے اس وفد میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے شامل تھے جو اولین غیر ملکی دورے پر سعودی عرب گیا تھا جس کے بعد اپنے منصب کے تقاضوں کی اہمیت اور ملک میں نئی حکومت کے قیام کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بلاول بھٹو نے غیر ملکی دوروں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے سب سے زیادہ تعداد ان کے دورہ امریکہ کی ہے جبکہ غیر ملکی دوروں کی فہرست میں چین، جرمنی، قطر، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، تاشقند، سنگاپور، ترکیہ، ایران، بھارت، سوئزرلینڈ سمیت دیگر اہم ممالک کے علاوہ بعض ایسے ممالک بھی شامل رہے جو بادی النظر میں عالمی سفارتکاری کے نکتہ نگاہ قدرے غیر اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ نے ان ممالک کو اہمیت دیکر ان ممالک کی نظروں میں اپنے ملک کی اہمیت میں اضافہ کیا البتہ اس تمام عرصے میں قریب ترین پڑوسی ملک افغانستان ان کے دوروں کی فہرست میں شامل نہیں، معروضی صورتحال کے پیش جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے بہرحال وزیر خارجہ کا تاحال دورہ افغانستان نہ کرنے کی یقیناً وجوہات بھی ہوں گی۔ پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے غیر ملکی دوروں کی تعداد اور بسا اوقات ممالک کے انتخاب پر ان کے ناقدین نے تنقید کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اور اسے ایک معاشی بحران کے حالات میں مالی بوجھ بھی قرار دے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے خود بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ غیر ملکی دورے میرے منصب کے متقاضی ہیں اور ان غیر ملکی دوروں کے اپنے اخراجات میں خود ادا کرتا ہوں، جبکہ بعض دوروں میں بیرون ملک رہنے والے پارٹی راہنمائوں اور دوستوں کی جانب سے بھی سپانسر ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال مئی میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے 15 دن میں پانچ غیر ملکی دورے کئے اور مئی 2022 کا نصف ماہ بیرون ممالک دوروں پر گزارا جسے ان کے ناقدین اور بالخصوص اس وقت کی اپوزیشن نے ہدف تنقید بنایا لیکن ان غیر ملکی دوروں میں ان کی مصروفیات کا جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ ان کے غیر ملکی دورے کس قدراہمیت کے حامل تھے۔ بلاول بھٹو سب سے پہلے 15 مئی کو خلیجی ملک متحدہ عرب امارات گئے تھے جہاں انہوں نے یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید ال نہیان کی وفات پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت کی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد بلاول بھٹو کا دورہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر اس قسم کا پہلا رابطہ تھا۔ انہیں امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے چھ مئی کو ٹیلیفون پر بھی گفتگو کی تھی۔ کمرشل پرواز سے نیویارک پہنچنے والے بلاول نے 18 مئی کو فوڈ سکیورٹی اجلاس میں بھی شرکت کی۔ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے اسی روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس سے ملاقات کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیرقانونی آبادکاری‘ جیسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ 19 مئی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر انتظام ’کانفلیٹ اینڈ فوڈ سکیورٹی‘ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ بلاول پر غیرملکی دورے کے دوران ہی تنقید شروع ہوچکی تھی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری امریکہ سے سیدھے چین پہنچے۔ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق بلاول چینی سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی کی خصوصی دعوت پر دو روزہ دورے پر گوانگزو پہنچے جہاں انہوں نے ’پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تجارتی اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 71 ویں سالگرہ کے موقع کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل تھا۔ چین کا دورہ کرنے کے بعد بلاول کی اگلی منزل یورپ تھی جہاں انہوں نے 23 سے 26 مئی تک سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق فورم میں بلاول بھٹو زرداری نے جیو پولیٹیکل پیشرفت کے تناظر میں معاشی اور سماجی اثرات کے ساتھ ساتھ کرونا کی وبا، خوراک اور توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے 25 مئی کو ڈیووس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور شیری رحمان بھی موجود تھیں۔ بلاول بھٹو زرداری سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نائف فلاح ایم الحجراف، ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان، ہالینڈ کی ملکہ میکسیما، فن لینڈ، رومانیہ اور آسٹریا کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی پندرہ دنوں میں ان مصروفیات کا مثبت سوچ سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ کی کاوشوں اور صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکتاہے۔