جن سےہے وفا کی امید ؟
پاکستان دشمن قوتیں؟پاکستان کو سری لنکا نہیں بنائیں گی تو کیسے کوالیفائڈ دشمن بن پائیں گی، روز ِاول سے ہم یہی سوچتے آئے ہیں کہ یہ فلاں ہمارا دشمن ہے اور اپنے دشمن تلاش کرتے کرتے 75برس بیت گئے، جس کے زیادہ دشمن ہوں وہ اتنا ہی کمزور ہوتا ہے، طاقتور ہمیشہ شوق عداوت پورا کرنے کیلئے کمزوروں کا پیچھا کرتے ہیں علاج ایک ہی ہے کہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی ایسی کوشش کی جائے کہ دشمن چاروں شانے چت ہو جائے، قوموں کو ان کے جذباتی نظریات نگل جاتے ہیں کیونکہ نظریے کے پائوں زمین پر نہیں ہوتے، تجزیے بھی محض بے دست و پا خیال ہوتے ہیں اور کبھی مسئلے کے حل تک نہیں پہنچ پاتے، وہ جو ہمیں تباہ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں خود کو اوج ثریا تک پہنچنے کیلئے سیڑھی تیار کرتے ہیں بلندی کو ڈسکس نہیں کرتے حاصل کر دکھاتے ہیں، ہم کبھی اپنی دھمکی اپنی غیرت کو عملاً ثابت نہیں کرسکے، اگر ایٹم بم حاصل کرنے کے باوجود ڈرے رہتے ہیں تو ثابت ہو گیا کہ پہلے معیشت تگڑی کرتے پھر اس کے زور پر ایٹمی طاقت بھی بن جاتے، کیا ایٹمی قوت نے ہمیں در در کی ٹھوکروں سے نجات دلا دی ؟پاکستان جس کے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے کہنے میں جتا ہوا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آج تک کوئی ایسی ایجاد نہ کر سکے کہ ہمارے دشمن کا بھی اس کے بغیر کام نہ چلے، سیاسی دنگل محض اسٹیٹس، دولت کیلئے ہر اکھاڑے میں گرم رفتار ہے اس دنیا میں کون ہے کہ اس سے آدھا ملک کوئی چھین گیا ہو اور اس نے اس سانحے کی برسی تک نہ منائی ہو، لاالہ کی بنیاد پر جو ملک قائم تھا کیا یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارا آدھا حصہ بھی کلمہ گوتھا اور اب بھی ہے یہ کیسے مان لیا گیا کہ ایک ہی پاکستان نام بدل کر دو ہو گیا وہ تمام دشمن جو ہمیں سری لنکا بنانا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اسے دولخت کیا گیا اور اس نے مان لیا۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
تعلیمی چوبارے
یوں تو دنیا میں ہرطرح کے مذاق ہوتے ہیں مگر تعلیم کے ساتھ ہمارے ہاں جو مذاق ہوا اُس کانتیجہ یہ ہے کہ تقریباً ہر میدان میں ہم مذاق بن کر رہ گئے۔ایک مظہر اس مذاق کا یہ ہے کہ شہروں میں کہیں بھی مصروف بازار میں ایک چوبارہ کرائے پر لیا جاتا ہے اور کوئی بھی من پسند نام رکھ کر ایک تعلیمی چوبارہ کھول دیا جاتا ہے ان نام نہاد اکیڈمیوں کا کبھی وزارتِ تعلیم نے جائزہ نہیں لیا بھاری فیسیں اور کم ترین تنخواہوں کے حامل اساتذہ سے رٹا سسٹم کے تحت طلبا کو اس طرح پڑھایا جاتا ہے کہ قوم کو ایسے پڑھے لکھے افراد مل جاتےہیںجوفارغ التحصیل ہو کر تعلیمی چوبارے ڈھونڈتے ہیں کہ بیروزگار نہ رہیں، معیار نام کی چیز ان چوبارہ درسگاہوں میں عنقا ہے، تعلیم کے معیار پر توجہ پورے ملک میں نہیں دی جاتی ،آپ 30سال مڑ کر دیکھیں تو ہر شعبہ تعلیم میں باصلاحیت افراد مل جاتے تھے لیکن آج یونیورسٹی سے نرسری تک تعلیم نابالغ ہے ۔یہ تعلیمی چوبارے محض دکانیں ہیں جہاں تعلیم کے نام پر رٹا سسٹم مہنگے داموں بکتا ہے، حیرانی ہے کہ یہ بازاری علم پڑھے لکھے جاہل پیدا کرتا ہے کمال بات ہے کہ 7ہزار تنخواہ پانے والے کسی ٹیچر کو پرنسپل بھی لگا دیا جاتا ہے ، وزارت تعلیم ادراک کر لے کہ وطن عزیز میں نظام تعلیم کا انداز پورے ملک کے ہر شعبے کو زوال کی طرف لے جا رہا ہے تدریس کے نام پر کاروبار کبھی حقیقی معیاری تعلیم سے قوم کو آشنا نہیں کر سکتا، جاہل عالم سے ان پڑھ بھلا کہ دل لگا کر کھیتوں میں کام کرکے معیاری فصل اگالیتا ہے حکومت ہر قسم کے تعلیمی اداروں کی چھان بین کیلئے ایک شعبہ بنائے جو تعلیم کیلئے بنائے گئے مراکز کو ہر لحاظ سے جانچے اور جہاں بھی بے اعتدالی نظر آئے ایسے نام نہاد تعلیمی اداروں کو بند کر دے ۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
دعا
دعا کا انسان کی زندگی سے گہرا تعلق ہے، آج پاکستان کو دعا کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، یہ ملک مبارک ہے مگر شاید ہم برکت کے خواہشمند نہیں ملک میں سیاسی اور معاشی بے اعتدالی ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے ایسا نہیں تھا، 2018ء کے الیکشن سے وطن عزیز کی صورتحال بگڑنا شروع ہوئی تاآنکہ عدم اعتماد کی منزل آ گئی، جس پر اترنے والے نے عدم اعتماد کے ردعمل میں سب کچھ رد کر دیا اور آج اپنا وہ حال کر لیا کہ اس کے حق میں کوئی دعا بھی کیونکر کرے، زبان انسانی جسم کا وہ عضو ہے کہ خیر وشر تراشتا ہے زبان کےساتھ عقل اس لئے دی گئی ہے کہ یہ زبان خیر اگلے، شر نہ اگلے، بہت بڑی نیکی ہے کہ زبان سے دعا نکلے، دعا کا مطلب اپنے رب کو مدد کیلئے پکارنا ہے، ہم ان دنوں جن حالات سے گزر رہے ہیں ان سے نکلنے کیلئے دعا واحد وسیلہ ہے دعا تب قبول ہوتی ہے جب اس میں یقین شامل ہو، کسی کو اتنا تنگ نہ کریں کہ وہ بددعا دے دے کیونکہ بددعا بھی اگر دل سے نکلے، قبول ہو جاتی ہے۔دعا ایک بہت بڑی سہولت ہے جو بندہِ خدا کو حاصل ہے مالک طاقتور ترین ہو تو اس کے ملازم کو کوئی خوف نہیں ہوتا بشرطیکہ کہ وہ مالک سے تعلق برقرار رکھے، دعا کا کوئی وقت نہیں جب چاہیں اسے پکاریں وہ جواب دیتا ہے لیکن پھر سے کہتا ہوں قبولیت کیلئے یقین ضروری ہے اور یقین ان کو حاصل ہوتا ہے جو صاحب ایمان ہوتے ہیں۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
کھیلن کو مانگیں سیاست
٭خبر ہے کہ ہمارے دیوالئے کیلئے مخالف بیرونی قوتیں بے قرار ہیں۔
دیوانے ہمیشہ دوسروں کے دیوالئےکے خواہشمند ہوتے ہیں۔
٭پاکستان سیاسی پارٹیوں میں خودکفیل ہوگیا۔
اب انتظار ہے کہ معیشت میں کفالت کب ملے گی۔
٭کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ سیاست ہے حکومت نہیں کیونکہ اس قدر دولت کی فراوانی ہے کہ حکومت کرنے کی ضرورت ہی نہیں خوشحالی کے باعث حکمران کھیلن کو مانگیں سیاست۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
پاکستان ریلویز ایک اہم قومی ادارہ ہے جو لاکھوں مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایسے...
اُف گرانی کہ بن نہیں پاتاہم سے ہر ماہ اپنے گھر کا بجٹ رشک اُن ماہروں پہ آتا ہے جو بناتے ہیں ملک بھر کا بجٹ
انسان……مبشر علی زیدیآج مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ بلیاں کیا باتیں کرتی ہیں،ڈوڈو نے انکشاف کیا۔ڈوڈو، یہ...
آج کے دور میں ایک عجیب المیہ جنم لے چکا ہے، کچھ لوگ شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے اپنی ہی دھرتی کو بدنام...
طالبان کے عروج و زوال کی داستان جسے حالات حاضرہ کے دیگر ہم موضوعات کے سبب موقوف کرنا پڑا،آج اس سلسلے کو وہیں...
گُزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان میں گردوں کی پیوندکاری کے بحران، غیر قانونی اعضاء کی تجارت اور ان ہزاروں...
عجیب حکومت ہے ۔ جن کیساتھ مذاکرات کرتی ہےاور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد...
ہمارے ملک کی ہر نئی حکومت برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک کو ترقی اور خوشحالی کی اس راہ پر گامزن...