کیا لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کی طرف سے تحریکِ انصاف کو خیر باد کہنے کے بعد عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا۔ ستمبر2007ء یاد آتا ہے۔این آر او کے پسِ منظر میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان کسی حد تک سمجھوتہ موجود تھا۔ نواز شریف مگر اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا نشانہ تھے۔برسوں قبل جنرل مشرف نے مسلم لیگ نون کو ذبح کر کے قاف لیگ تخلیق کی تھی ۔ فردوس عاشق اعوان جیسے ،جو لیڈر آج استحکام پاکستان پارٹی میں جگمگا رہے ہیں ، تب قاف لیگ کے دھاگے میں پرو دیے گئے تھے ۔2002ء کے الیکشن میں 342کے ایوان میں مسلم لیگ نون صرف 19سیٹیں جیت سکی ۔قاف لیگ کے پاس 105، جب کہ پیپلزپارٹی 79 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی ۔اکتوبر کے مہینے میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان بدنامِ زمانہ این آر او طے پانا تھا۔اس ماحول میں نون لیگ کے مقابلے میں پیپلزپارٹی پر ہاتھ خصوصی طور پر ہولا رکھا جا رہا تھا۔
نواز شریف ملک واپس آنے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔9ستمبر کو سعودی انٹیلی جنس کے چیف شہزادہ مقرن بن عبد العزیز اور لبنانی سیاستدان سعد الحریری پاکستان تشریف لائے ۔سعد الحریری وہ تھے، بعدازا ں جنہیں دو دفعہ لبنان کا وزیرِ اعظم بننا تھا۔شہزادہ مقرن نے شریف برادران کا دستخط شدہ معاہدہ صحافیوں کے سامنے لہرایا اور مطالبہ کیا کہ نواز شریف سیاست سے جلاوطنی کا اپنا دس سالہ معاہدہ پورا کریں ۔معاہدہ دراصل یہ تھا کہ سعودی شاہی خاندان کی سربراہی میں بین الاقوامی شخصیات نے شریف برادران بلکہ شریف خاندان کو پاکستانی جیل سے رہا ہو کر سعودی عرب میں آرام دہ زندگی بسر کرنے کی اجازت لے کر دی تھی ۔شریف برادران کے دستخط موجود تھے؛اگرچہ عدالت کی نظر میں ایسے دستخطوں کی کوئی اہمیت نہ تھی اور کسی بھی شہری کو اس کے اپنے ملک واپسی سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھا ۔عدالت کی نظر میں اس معاہدے کی رتی برابر اہمیت نہ تھی ۔عدالت کو مگر اس وقت کون پوچھتا تھا، ملک پہ جب فوجی حکمران کی بادشاہی تھی ۔پرویز مشرف کا اقتدار بھی مگر مارچ2007ء میں جسٹس افتخارچوہدری کو معزول کرنے کی ناکام کوشش کے بعد لڑکھڑا رہا تھا ۔10ستمبر2007ء کو نواز شریف اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترے ۔ چند گھنٹوں کے ہنگامے کے بعد زبردستی ایک جہاز میں بٹھا کر انہیں جدہ روانہ کر دیا گیا۔
نواز شریف دھاندلی کا ہدف تھے۔ ہمدردی کی ایک بڑی لہر ان کے حق میں اٹھی ۔ساری زورزبردستی کے باوجود 2008ء کا الیکشن دراصل نواز شریف ہی جیتے تھے ، بے نظیر اگر قتل نہ کر دی جاتیں ۔پرویزی خنجر سے ذبح ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف ملکی سیاست سے مائنس نہ کئے جا سکے ۔2013ء کے الیکشن میں وہ ایک بار پھر وزیرِ اعظم بنے ۔میاں صاحب کو اگر یاد ہو تو مدتوں بعد جولائی2017ء میں جب عدلیہ نے انہیں نا اہل کیا تو وہ ججز کی بجائے جنرل قمر باجوہ کے خلاف ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سڑکوں پہ نکلے تھے ۔ فوج ان دنوں ان کی حالتِ زار سے محظوظ ہورہی تھی ۔علی الاعلان مریم نواز کا کہنا یہ تھاکہ ان کے خلاف کیسز جنرل فیض حمید نے بنائے اور جنرل فیض حمید نے چلائے ۔مریم نواز کی تقاریر کے دوران پاک فوج کے خلاف نعرے لگا کرتے ۔
یہ صرف شریف خاندان کی بات نہیں ۔ رانا ثناء اللہ پہ منشیات ڈالی گئیں ۔ آج وہ وزیرِ داخلہ ہیں ۔بہت خوش ہیں اپنی اس کامیابی پر ۔ فرق پڑا ہے تو اتنا کہ نون لیگ اور تحریکِ انصاف کی جگہیں ایک دوسرے سے بدل دی گئی ہیں ۔ قاف لیگ کی جگہ استحکام پاکستان پارٹی نے جنم لیا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ یہ کھیل ایسا نہیں ہے ، جیسا نظر آرہا ہے ۔ بہت سے سیاسی لیڈر بظاہر جو استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں ، اندر سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ والے عمران خان کو ’’سلیکٹڈ ‘‘ ہونے کے طعنے دیا کرتے تھے ۔ آج وہ خود سلیکٹڈ ہیں اور اس پر انہیں کوئی ندامت بھی نہیں ۔ملک کی ساری سیاسی پارٹیوں کو ایک جماعت کے خلاف متحد کر دیا گیا ہے ۔ وہ سب بہت خوش ہیں ؛حالانکہ پوزیشن کل پھر تبدیل ہوگی ۔ صرف ایک جماعتِ اسلامی لا تعلق ہے ۔جلد یا بدیر الیکشن تو ہو کے رہنے ہیں ۔ الیکشن کے بغیر ملک تو نہیں چل سکتا۔نتائج اگر وہ آئے، 2008ء کے الیکشن میں جس طرح قاف لیگ کے پائوں تلے سے زمین کھسکی تھی ۔ 2008ء کے الیکشن میں جیسے نون لیگ اور میاں محمد نواز شریف کو مائنس کرنے کی ساری کوششیں ناکام رہیں ۔ قاف لیگ کی 54سیٹوں کے مقابلے میں وہ 88نشستیں جیت گئے ۔اس کے باوجود جیت گئے کہ لوکل اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے وہ دھاندلی کا ہدف تھے ۔ بے نظیر بھٹو اگر قتل نہ کر دی جاتیں تو نون لیگ الیکشن جیت گئی تھی ۔
حیران میں اس بات پر ہوں کہ میز جب گھما دی جاتی ہے تو اپنا نمبر آنے پر سیاستدان خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔انہیں بالکل یاد نہیں رہتا کہ کل ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ میز دوبارہ گھومے گی ۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے مہرے پھر بدلے گی۔
’’جسے پیا چاہے وہی سہاگن، کیا سانوری کیا گوری‘‘
کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سارے پاکستانی سیاستدان خرابی ء یادداشت کا شکار ہیں ۔خود میاں محمد نواز شریف کاسیاسی ماضی البتہ گواہی دیتا ہے کہ عمران خان کا سیاسی کیرئیر اس طرح بہرحال اختتام کو نہیں پہنچ سکے گا۔ حالات اللہ کا لشکر ہیں اور حالات بھی کبھی کنٹرول کئے جا سکے ہیں؟ اگر کئے جا سکتے تو ملک میں آج بھی قاف لیگ کی حکومت ہوتی۔
مزید خبریں
-
پاکستان ریلویز ایک اہم قومی ادارہ ہے جو لاکھوں مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایسے...
-
اُف گرانی کہ بن نہیں پاتاہم سے ہر ماہ اپنے گھر کا بجٹ رشک اُن ماہروں پہ آتا ہے جو بناتے ہیں ملک بھر کا بجٹ
-
انسان……مبشر علی زیدیآج مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ بلیاں کیا باتیں کرتی ہیں،ڈوڈو نے انکشاف کیا۔ڈوڈو، یہ...
-
آج کے دور میں ایک عجیب المیہ جنم لے چکا ہے، کچھ لوگ شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے اپنی ہی دھرتی کو بدنام...
-
طالبان کے عروج و زوال کی داستان جسے حالات حاضرہ کے دیگر ہم موضوعات کے سبب موقوف کرنا پڑا،آج اس سلسلے کو وہیں...
-
گُزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان میں گردوں کی پیوندکاری کے بحران، غیر قانونی اعضاء کی تجارت اور ان ہزاروں...
-
عجیب حکومت ہے ۔ جن کیساتھ مذاکرات کرتی ہےاور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد...
-
ہمارے ملک کی ہر نئی حکومت برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک کو ترقی اور خوشحالی کی اس راہ پر گامزن...