کراچی مئیر الیکشن اور معاشی صورتحال!

محمدفاروق چوہان
18 جون ، 2023
کراچی میئر کے انتخابات میں تحریک انصاف کے 31ارکان کے اغواء اور دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کے امید وار مرتضی وہاب کی کامیابی نے وطن عزیز پاکستان کے انتخابی نظام سے متعلق کئی سوالات اٹھا دئیے ہیں؟ امر واقعہ یہ ہے کہ دھونس و جبر کے ذریعے دھاندلی زدہ الیکشن کو کراچی کے عوام آخر کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ کراچی ایک سیاسی شعور رکھنے والا شہر ہے۔ اس کو اپنی حقیقی قیادت سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ یہ کیسا مذاق ہے کہ جماعت اسلامی کی حمایت کرنے والے تحریک انصاف کے اکتیس ارکان کو انتخابی عمل سے دور کر دیا گیا؟ جماعت اسلامی کی طرف سے مئیر کراچی کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کے حق پر ڈاکہ مارا گیا ہے اور وہ اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایک سو اکیانوے ارکان کی اکثریت رکھنے والے حافظ نعیم الرحمن کو ہرا دیا گیا ہے اور پیپلز پارٹی ایک سو تہتر ارکان کے ساتھ مرتضی وہاب کو جتوانے میں بالاآخر کامیاب ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثریتی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کا مئیر نہیں بننے دیا گیا۔ تحریک انصاف کے اکتیس ارکان کے لاپتہ ہونے کے بعد تو کراچی مئیر کے الیکشن کا سارا عمل ہی مشکوک ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو کراچی میں اکثریتی مینڈیٹ رکھنے والی پارٹی جماعت اسلامی کو مئیر شپ دے دینی چاہئے تھی مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی اگر کراچی میں حقیقی نمائندگی حافظ نعیم الرحمن کو دے دیتی تو شہر قائد کی حالت بدل جاتی اور ترقی کا عمل شروع ہو جاتا۔ حافط نعیم الرحمن نے بھی واضح طور پر پیغام دے دیا ہے کہ وہ کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کو چرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتیس ارکان کو اغواء کرنے اور کراچی کے مینڈیٹ کو ہتھیانے کے خلاف وہ پرامن احتجاج کریں گے اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ اب پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا یہ امتحان ہے کہ وہ اس سنگین اور مشکل صورتحال سے کیسے نکلتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کراچی مئیر کے الیکشن میں کھلم کھلا دھاندلی اور جبرو دھونس سے سندھ حکومت کی بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ اگر حافط نعیم الرحمن کراچی کا مئیر بن جاتا تو کون سی قیامت آجاتی؟۔ پیپلزپارٹی کو اپنے اس غیر جمہوری روئیے پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ کراچی کی طرح پورے ملک میں عوام غیر یقینی کیفیت اور اضطراب میں مبتلاء ہیں۔
دن بدن بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی نے بھی غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اب لوگ دو وقت کی بجائے ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرح پی ڈی ایم کی حکومت نے بھی قوم کو مایوس کیا ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دور حکومت میں بد ترین معاشی کارکردگی دکھائی ہے۔ اب پاکستان کے عوام کی نظر یں اکتوبر میں عام انتخابات پر ہیں کیونکہ ملک کے تمام مسائل کا حل بروقت اور شفاف انتخابات میں ہے۔ مقام افسوس ہے کہ پی ڈی ایم کے بعض وزراء کی جانب اس سال اکتوبر میں الیکشن کی تاخیر کے بیانات آئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت اکتوبر میں الیکشن نہیں چاہتی بلکہ وہ عام انتخابات کو اگلے سال تک لے جانا چاہتی ہے۔ انتخابات میں تاخیر جمہوریت کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے پی ڈی ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے۔ عوام پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم دونوں کی کارکردگی دیکھ چکے ہیں، سب نے عوام کو مہنگائی کے عذاب تلے دبائے رکھا، ان لوگوں کے پاس عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے، نا اہل اور کرپٹ مافیا کو جب تک مسترد نہیں کر دیا جاتا، اور ملک کی بھاگ دوڑ ایماندار لوگوں کے سپرد نہیں کر دی جاتی اس وقت تک ملکی حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ وقت اور حالات نے ثابت کردیا ہے کہ وطن عزیز میں چور دروازے سے جو بھی بر سر اقتدار آیا اس نے 25کروڑ عوام کو صر ف مایوس کیا ہے۔ اس نے لوٹ مار کر کے اپنی تجوریوں کو بھرا۔ ان کے نزدیک عوام کیڑے مکوڑے ہیں۔ پاکستان اس وقت نازک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اتحاد کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں 10کروڑ افراد سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 4ارب ڈالر سے بھی نیچے جا چکے ہیں۔ وفاقی بجٹ سے بھی قو م کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ طرفا تماشا یہ ہے کہ حالیہ وفاقی بجٹ 144کھرب 60ارب روپے کا ہے جو بجٹ 69کھرب 24کھرب خسارے کا بجٹ ہے۔ یہ محض الفاظ کا گورکھ دھندہ دکھائی دیتاہے جس سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ حکومت کو تنخواہوں اور پنشن میں بھی مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح مزدور کی کم از کم اجرت 40ہزار روپے کی جانی چاہئے تھی تاکہ مہنگائی سے تنگ عوام کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ کم آمدنی والوں کے لئے تو وفاقی بجٹ میں توقع کے مطابق کچھ نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ معاشی استحکام اور مہنگائی کم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4اعشاریہ 6فیصد جبکہ فی کس آمدنی ایک ہزار 568ڈالر کی کم ترین سطح پر اور معیشت سکڑ کر 341ارب ڈالر پر آ گئی ہے۔ اگر رواں سال اکتوبر میں صاف شفاف انتخابات ہونگے تو ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا۔ اس وقت اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔