9مئی حملوں میں براہ راست ملوث افراد کو پارٹی میں نہیں لینگے، علیم خان

18 جون ، 2023

اسلام آباد ( ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں صدر استحکام پاکستان پارٹی علیم خان نے میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران کے پاس گینگ آف فائیو تھا ، تمام فیصلے یہی گینگ کرتا تھا ، اس گینگ میں جنرل فیض ، اعظم خان ، بشریٰ بی بی ، فرح گوگی اور ایک پانچواں بڑ آدمی شامل تھا ، 9مئی کے حملوں میں براہ راست یا اکسانے میں ملوث افراد کو اپنی پارٹی میں شامل نہیں کریں گے ، آئندہ ہفتے بڑے بڑے نام ہماری پارٹی میں شامل ہوں گے،پارٹی تشکیل دیئے جانے کے بعد منشور نہیں بنایا، ہم نے مل کر تحریک انصاف کا منشوربنایا تھا اور ہم اسی منشور کے تحت اگر ہمیں لگا کہ اس میں کوئی چیز ایڈ کرنے والی ہے ہم ضرور ایڈ کریں گے ، ہمیں کسی بھی اسٹبلشمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔جہانگیر ترین کو اس وقت نا اہل کیا معاملہ کو بیلنس کرنے کیلئے اس میں عمران خان آن بورڈ تھے، اس کے اندر کلیدی کردار تھا جنرل فیض تھا، عمران خان کو نجات دہندہ سمجھا تھا ، ہم بھی اسی فریب کا شکار ہوکر ان کے پاس گیا ، ہم نے سمجھا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ذریعہ پاکستان ترقی کرسکتا ہے، یہ پاکستان کو واقعی کسی جگہ پر لے جائے گا، ہم نے واقعی اعتبار کیا تھا، میں برملا کہتا ہوں ہم سے دھوکا ہوا اور بہت سارے لوگوں سے ہوا، کچھ لوگوں کو اس کا احساس ہوگیا کچھ لوگوں کو احساس نہیں ہوا ، آج بھی شوکت خانم کا سب سے بڑا ڈونر ہوں، 2011کا مینار پاکستان کا پورا جلسہ عمران کے کہنے پر آرگنائز کیا ، مجھے لگتا ہے 2018ء سے پہلے والا عمران خان بالکل مختلف عمران خان تھا، پنجاب میں بزدار کو وزیراعلیٰ لگانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ پرویز خٹک تھے ، عمران سمجھتے تھے کہ بطور وزیراعلیٰ خٹک نے ان کے احکامات کی صحیح طریقے سے تعمیل نہیں کی اور وہ ان سے ناراض تھے، وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا شخص جس کی اپنی کوئی سمجھ نہ ہو اس کو وزیراعلیٰ بنایا جائے، یہ جو بزدار فارمولا تھا یہ پرویز خٹک کی وجہ سے بنا تھا، میرے پاس میسجز موجود ہیں، عمران نے بہت سارے فیصلے علم یا عمل کی وجہ سے کئے ، بدقسمتی سے عمران سیاست اور ریاست سے متعلق فیصلے بشریٰ بی بی کے کہنے پر کرتے تھے،کہاں جانا ہے کہاں نہیں جانا، جنازے میں نہیں جانا، کس سے ملنا ہے کس سے نہیں ملنا، وہ بالکل توہم پرست بن گئے تھے ، جب سے سیاست شروع کی یہی سمجھتا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کچھ نوا زا ہو، اس ملک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت دی ہو، نام دیا ہو، شہرت دی ہو، دولت دی ہو تو آپ کے اوپر ذمہ داری زیادہ ہے، اس کا احساس کرنا چاہئے، صرف تنقید کرنا اور برا بھلا کہہ کر اپنی ایزی لیونگ میں واپس چلے جانا یہ اس کا حل نہیں ہے، میں تیس سال کا تھا جب سیاست شروع کی تھی، بڑی امید تھی کہ میں اس کے اندر کوئی فرق ڈال سکوں گا، کوئی بہتری لاسکوں گا، میں نے پوری کوشش کی بڑی ایمانداری سے کی، میں 2003ء سے 2007ء کے آخر تک وزیر رہا، اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے پوری کوشش کی ، میرے پاس آئی ٹی کی وزارت تھی اس میں جو کام کرسکتا تھا وہ کیا، لیکن جب میں نے 2010-11ء میں تحریک انصاف جوائن کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت سب سے آسان فیصلہ پی ایم ایل این جوائن کرنے کا ہوسکتا تھا، ن لیگ کی اس وقت پنجاب میں حکومت میں تھی سب سے آسان تھا اگر آپ کاروباری ہو اور آپ کا بزنس ایٹ اسٹیک ہو تو جتنے کاروباری لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے لئے آسائش اور آسان راستہ چنتے ہیں، ہم نے مشکل راستے کا انتخاب کیا، ہم نے 2008ء میں میں نے ق لیگ چھوڑ دی تھی، میں نے تب ق لیگ چھوڑی تھی جب چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی حکومت میں تھے، چوہدری پرویز الٰہی اس وقت ڈپٹی وزیراعظم تھے، میں نے ان کو اس خط میں بھی یہ لکھا تھا کہ میں آپ کو اس دن چھوڑ رہا ہوں جب آپ حکومت میں ہیں۔۔ میرے سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، میرا نہیں خیال کہ میرا اس وقت وہاں پر اتنا کوئی تھا کہ مجھے خاص طور پر بلایا جاتا، میرا عمران خان سے بہت پرانا تعلق تھا، میں شوکت خانم کے ڈونرز میں سے تھا، شوکت خانم کیلئے، نمل کیلئے اور عمران خان نے ایک اور فاؤنڈیشن بنائی تھی عمران خان فاؤنڈیشن ، اس فاؤنڈیشن کا پہلا چیک بھی میرا تھا، آج کی تاریخ تک شوکت خانم کا سب سے بڑا ڈونر میں ہوں، آج بھی اگر آپ چیک کریں، میری آج تک ڈونیشن اسی طرح جاتی ہے، وہ آج تک کم نہیں ہوئی ختم نہیں ہوئی، میں سمجھتا ہوں شوکت خانم عمران خان نے شروع ضرور کیا تھا اسے بنانے میں ان کا بڑا کردار تھا لیکن اس کو بہت سارے لوگوں نے فنڈ کیا ہے، اسپانسر کیا ہے اور لوگوں کی ایسی جگہ ہے جہاں پر لوگ اس کو سمجھتے ہیں، اس کی ایڈمنسٹریشن نے اس کو بہت اچھے طریقے سے چلایا ہے۔ جب میں عمران خان کے ساتھ آیا تو ان کے پاس پورے پاکستان میں ایک کونسلر کی سیٹ بھی نہیں تھی، ان کا ایک یونین کونسل کا ناظم بھی نہیں تھا، اگر مجھے یہ پہلے سے ہی پتا ہوتا کہ ایک دن آئے گا آج سے کوئی چھ سال بعد اور عمران خان اس دن پرائم منسٹر بن جائے گا تو یہ تو کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا، 2013ء کا جب آپ سوچیں کہ میرا نظریہ اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے کہ عمران خان نے مجھے 2013ء کے الیکشن میں ٹکٹ ہی نہیں دیا تھا، میں عمران خان کا وہاں پر کمپین انچارج تھا، عمران خان کی کمپین میں نے کی تھی باوجوہ اس کے کہ مجھے خود ٹکٹ نہیں ملا تھا، پھر اسی سیٹ کے اوپر جب میں نے 2015ء کا الیکشن لڑا جو ضمنی الیکشن تھا سردار ایاز صادق کے مقابلہ میں تو آ پ سب نے دیکھا کہ اس سیٹ پر شاید مجھ سے بہتر امیدوارا ن کے پاس کوئی نہیں تھا، لیکن انہوں نے مجھے ہی 2013ء کی سیٹ نہیں دی تھی تو میں نے نہ پارٹی چھوڑی نہ نظریہ چھوڑا، کمپین کی اور بھرپور کمپین کی اور ساری کمپین کا انچارج بنا لاہور میں اور پنجاب میں۔ 2011ء کا جلسہ ہوا تو میاں محمود الرشید صاحب ، عمران خان صاحب اور ایک اور فرید الدین صاحب ہوتے تھے وہ میرے پاس گھر آئے تھے اور انہوں نے مجھے کہا کہ آپ اس کو آرگنائز کریں، خان صاحب کی میں نے تو پارٹی جوائن نہیں کی ہوئی تھی ، میں نے خان صاحب کو کہا کہ آپ جو کہتے ہیں میں دے دیتا ہوں، پارٹی آپ کی ہے آپ جلسہ کریں، خان صاحب نے جو اماؤنٹ کہی میں نے ان کو کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے دوں گا، اس کے ایک گھنٹے بعد انہوں نے مجھے دوبارہ فون کیا کہ میاں محمود الرشید صاحب میرے ساتھ بیٹھے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں ہم سے جلسہ آرگنائز نہیں ہوسکتا یہ جلسہ آپ سارے کا سارا علیم خان کو دیدیں، یہ محمود الرشید کے ساتھ بیٹھ کر عمران خان نے مجھے فون کیا اپنے گھر سے، میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو جلسہ آرگنائز کردوں گا لیکن پھر اس کے اندر آپ کا کوئی بندہ نہیں آئے گا، بارہ بجے تک تیس اکتوبر کے، وہ جلسہ میں کروں گا، اس کا انتظام میں کروں گا، اس کی ہر چیز میں کروں گا، بارہ بجے میں اتر جاؤں گااور بارہ بجے اسٹیج آپ کو دیدوں گا، یہ مینار پاکستان کے جلسے کی بات ہے، میں نے اس کو چار دن پہلے مکمل کردیا تھا اور وہ تیس کے بجائے ستائیس یا چھبیس تاریخ کو اگر آپ آج تصویریں دیکھیں تو جلسے کے سارے انتظامات مکمل تھے، جب میں نے تیس اکتوبر کے بعد دیکھا تو رویہ تب ہی تبدیل ہوگیا تھا، پی ٹی آئی والوں کا بھی تبدیل ہوگیا تھا، لیکن میں پھر بھی سمجھتا تھا کہ عمران خان کا ساتھ دیتے ہوئے ہم واقعی ایک خوبصورت پاکستان بناسکتے ہیں، مجھے لگتا ہے 2018ء سے پہلے والا عمران خان بالکل مختلف عمران خان تھا۔ بدقسمتی سے عمران سیاست اور ریاست سے متعلق فیصلے بشریٰ بی بی کے کہنے پر کرتے تھے، عمران خان نے گھر سے نکلنے کا ٹائم اور واپس آنے کا ٹائم ، کس کو ملنا ہے کس کو نہیں ملنا، کس کو کس ٹائم پر ملنا ہے، آپ جنازے پر نہیں جاسکتے، موت پر نہیں جاسکتے، جنازہ پڑا ہو نہیں جاسکتے، آپ کو یاد ہوگا کوئٹہ میں جب ہزارہ کمیونٹی کے اندر بہت ساری میتیں پڑی تھیں اور خان صاحب نے جانے سے انکار کردیا تھا کہ پہلے ان کو دفناؤ میں پھر آؤں گا، وزیراعظم پاکستان عملیات کے اوپر اور جو بھی ان کو کہتے تھے پتا نہیں کون تھے موکل تھے نہیں تھے جو بھی تھے اور جن کے کہنے پر بھی وہ چلتے تھے اس نے پاکستان کو اور اس نظریے کو جس کیلئے عمران خان کا ساتھ لوگوں نے دیا تھا کروڑوں لوگوں نے دیا تھا تو وہ اس کے اوپر بہت نقصان ہوا، میرا ذاتی خیال ہے کہ اس دن کے بعد سے عمران خان کی سوچ سمجھ اور وہ جو کررہے تھے وہ ان کا نہیں تھا کسی اور کا تھا پیچھے سے کوئی اور چلاتا تھا۔ میں آپ کو بتاؤں کہ پچیس جولائی کو الیکشن ہوتا ہے، اٹھائیس جولائی کو مجھے پہلا نیب کا نوٹس آتا ہے، میرے لئےبدقسمتی یہ تھی کہ میں ایم این اے کا الیکشن ہار گیا تھا اور صرف ایم پی اے تھا، میرے پاس سوائے پنجاب اسمبلی میں جانے کے کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا، آپ کو یاد ہوگا ایک دو سیٹیں لوگ ایسے جیتے تھے جیسے فواد چوہدری تھے، ان کو خان صاحب نے کہہ دیا تھا کہ آپ سب فیڈرل میں آئیں گے، اگر میں ایم این اے جیتا ہوتا تو میں بھی فیڈرل میں چلا جاتا اور ایم پی اے کی سیٹ خالی ہوتی۔