چیئرمین PTI سے ایک گھنٹے تفتیش، سائفر گم کرنے کا پھر اعتراف، فواد، حماد، سواتی، عمر چیمہ و دیگر پر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کا مقدمہ

27 اگست ، 2023

اسلام آباد،لاہور(جنگ نیوز ، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں ) ایف آئی اے کی ٹیم نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی سے اٹک جیل میں ایک گھنٹہ تفتیش کی ،دوسری طرف فواد چوہدری، حماد اظہر ،اعظم سواتی ،سابق گورنر عمر چیمہ ودیگر رہنماؤں پر اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کا مقدمہ درج کر لیاگیا ہے۔ سائفر کنٹینٹ ،آڈیو لیک، گمشدگی پر ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں عمران خان کو باقاعدہ طور پر شامل تفتیش کرلیاگیاہے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی تین رکنی ٹیم نے اٹک جیل میں قید عمران خان سے سائفر کیس سے متعلق تحقیقات کیں ، سائفرگم ہونے سے متعلق سوالات کیے، عمران خان نے ٹیم کے سامنے خفیہ سائفر( مراسلہ )گم کرنے کا ایک بار پھراعتراف کیا۔ ایف آئی اے ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کررہے تھے، تفتیشی ٹیم دوپہر سوا دو بجے اٹک جیل میں آئی اور ساڑھے تین بجے تک چیئرمین پی ٹی آئی سے تحقیقات کیں۔ جس کے بعد ٹیم واپس اسلام آباد روانہ ہوگئی۔تفتیشی ٹیم نے عمران خان سے شاہ محمود قریشی کے انکشافات سے متعلق سوالات کیے،کیس میں سابق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر اور سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں کیے جانے کا عندیہ دیاگیا ہے، 5 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد سے وہ اٹک جیل میں قید ہیں۔دوسری جانب ملکی سلامتی کے اداروں اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پر پی ٹی آئی کے موجودہ اور سابق رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔ ایف آئی آر میں حماد اظہر ، مسرت جمشید چیمہ ، قاسم سوری ، عمر سرفراز چیمہ کو نامزد ملزم قرار دیا گیا ہے۔ علی زیدی ، فواد چوہدری ، اعظم سواتی کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جھوٹی مہم چلائی ، ان تمام رہنماؤں کو وضاحت کے لیے طلب کیا گیا مگر طلبی کے باوجود کوئی رہنما پیش ہوا اور نہ جواب جمع کرایا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا ، ایف آئی اے نے ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے ٹیمیں بھی تشکیل دے دیں۔