بلوچستان کے سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت بند کی جائے،اختر مینگل

27 اگست ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے سربراہ اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت بند کی جا ئے ، اسٹیبلشمنٹ کے سلیکٹڈ لوگوں کے بجائے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیا جائے،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ پچھلی رجیم نے خیبرپختونخوا کے ہر پختون کے سر کا سودا کرلیا، عمران خان روز اول سے طالبان کا نمائندہ رہا ہے، خیبرپختونخوا میں 40ہزار دہشتگردوں کو سیٹل کردیا گیا،مردم شماری پر بہت زیادہ شکایات ہیں، خیبرپختونخوا کی پانچ سال پہلے جوآبادی تھی آج بھی وہی آئی ہے۔ بی این پی (مینگل) کے سربراہ اخترجان مینگل نے کہا کہ بلوچستان سے وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ اورچیف جسٹس بنانے سے بلوچوں کا احساس محرومی ختم نہیں ہوگا،بلوچستان کا احساس محرومی ایک خاص مائنڈ سیٹ سے وابستہ ہے ،بلوچستان سے جج یا چیف جسٹس آنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں عدالتیں آزاد ہوگئی ہیں۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت پی ٹی آئی کی حمایت کی تھی، معاہدے پر عمل نہیں ہوا تو پی ٹی آئی حکومت کو خیرباد کہہ دیا، شہباز شریف کی حکومت بھی ہمیں تسلیاں دیتی رہی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جولائی 2022ء میں نواز شریف کو خط لکھ کر تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا۔ اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت بند کی جائے، اسٹیبلشمنٹ کے سلیکٹڈ لوگوں کے بجائے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیا جائے، بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے، بلوچستان کی معاشی بدحالی کی وجہ صنعتوں کا نہ ہونا ہے، سیاسی معاملات میں مداخلت بند کرنے اور معاشی ترقی کے بغیر بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ملک بچانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو کڑوے گھونٹ پینا پڑیں گے، باہر بیٹھے اور پہاڑوں پر بیٹھے لوگوں سے بات کرنا ہوگی، کیا مذہبی انتہاپسندی پھیلانے والوں کیخلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے، بلوچستان میں غیرریاستی عناصر کی موجودگی تسلیم کرنا ہوگی، حکومت طالبان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہے تو بلوچوں کے ساتھ بیٹھنے میں کیا حرج ہے، کوئی شخص جرائم میں ملوث ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کر کے صفائی کا موقع دیا جائے۔ اختر مینگل نے کہا کہ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کرنے والے کو مکمل اختیار دیا جائے، پارلیمانی کمیشن بنایا جائے جو دیکھے فالٹ لائن بلوچستان میں ہے یا کہیں اور ہے، بلوچستان اور پورے ملک میں نگرانی اصل نگرانوں کی ہوتی ہے، نگراں کابینہ میں شامل لوگوں کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہے۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو 90دن میں الیکشن کروانے چاہئیں، نئی حلقہ بندیاں الیکشن میں تاخیر کرنے کا آئینی بہانہ ہے، مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ کا مقصد بلوچستان کی آبادی کم دکھانا تھا، سی سی آئی کی واحد ایسی میٹنگ ہوئی جس میں نان ممبرز کو بلایا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی شرکت کیلئے میٹنگ میں چھ گھنٹے کی تاخیر کی گئی۔ اختر مینگل نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کسی غیرسیاسی شخصیت کو بنانا چاہئے تھا، میں نے وزیراعظم کو کہا تھا کیئر ٹیکر وزیراعظم بنائیں انڈرٹیکر وزیراعظم نہ بنائیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ پچھلی رجیم نے خیبرپختونخوا کے ہر پختون کے سر کا سودا کرلیا، عمران خان روز اول سے طالبان کا نمائندہ رہا ہے، خیبرپختونخوا میں 40ہزار دہشتگردوں کو سیٹل کردیا گیا، پچھلی رجیم نے 102دہشتگردوں کو جیلوں سے رہا کردیا گیا، ان لوگوں کو اسی لیے کیا گیا کہ دوبارہ دہشتگردی شروع ہوجائے، ماضی میں ہم نے بھی دہشتگردوں سے مذاکرات کر کے غلطی کی تھی، ہم جب مذاکرات میں گئے تو امریکا سمیت سب لوگ مخالفت کررہے تھے،اس وقت پوری پختون قوم طالبان کو مسیحا سمجھ رہی تھی، پہلی دفعہ ہمارے جرگہ نے طالبان کی بری شکل لوگوں کے سامنے واضح کی۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کو خیبرپختونخوا میں 2013ء کا انتخاب عوام نے نہیں ٹی ٹی پی نے جتوایا تھا، 2018ء میں بھی عمران نیازی اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ تھا، ایک صوبائی انفارمیشن وزیر کیسے دوسرے ملک کے ساتھ جرگے کرسکتا ہے؟، خیبرپختونخوا کے کور کمانڈر اور صوبائی حکومت کے چند لوگ افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ جرگے کررہے تھے اور وزیراعظم شہباز شریف کو اس کا پتا ہی نہیں تھا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کا واحد مشن عمران خان کی شکل میں بیٹھے ناسور کی حکومت گرانا تھا، میں جنرل فیض کے خلاف عدالت تک گیا ہوں، گورنر خیبرپختونخوا کا کردار منفی ہے، وزیراعلیٰ کو ہٹائے بغیر کابینہ کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، نگراں وزیراعلیٰ کے پی کا بھتیجا آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کا امیدوار ہے، خیبرپختونخوا میں صاف و شفاف انتخابات کیلئے گورنر اور وزیراعلیٰ کو ہٹانا ہوگا۔ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ مردم شماری پر بہت زیادہ شکایات ہیں، خیبرپختونخوا کی پانچ سال پہلے جوآبادی تھی آج بھی وہی آئی ہے، الیکشن جب بھی ہونے ہیں الیکشن کمیشن اس کی تاریخ دیدے، ہمیں شک ہے الیکشن فروری سے بھی آگے جائیں گے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہورہا بلکہ کم ہورہا ہے، پرویز خٹک اور محمود خان ایک پریس کانفرنس پر معافی لے کر کھلے گھوم رہے ہیں، ان کی چوریوں پر انہیں پکڑا جاناچاہئے تھا، نو مئی کا واقعہ معاف کردیں لیکن ان کی چوریاں معاف نہیں کریں، انتخابات میں پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنا چاہئے۔