بجلی کے شعبہ میں اصلاحات نہ کرنیکا خمیازہ بھگت رہے ہیں،مفتاح اسماعیل

27 اگست ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پچھلے تیس سال سے بجلی کے شعبہ میں اصلاحات نہیں کی گئیں آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،پیپلز پارٹی کے دور میں ڈیزل پر بجلی بنائی گئی یہ تو یورپ بھی برداشت نہیں کرسکتا، پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سی سی آئی میٹنگ میں پیپلز پارٹی نے بھی مردم شماری کی منظور ی دی تھی، نواز شریف کی واپسی کب ہوگی یہ ن لیگ کا اندرونی معاملہ ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا 2021-22ء میں 1350ارب روپے بجلی کی سبسڈی کی مد میں دیئے گئے، اگلے سال بھی اتنی ہی سبسڈی دی گئی، بجلی کی چوری، لائن لاسز نہیں روکے گئے اور گردشی قرضے بڑھتے رہے ، بلوں میں ٹیکسز ختم کیے جاسکتے ہیں مگر پھر ہدف کیسے حاصل کیا جائے گا، ریئل اسٹیٹ، زراعت اور سروسز سیکٹر پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا تو پھر غریبوں سے ہی ٹیکس لیا جائے گا، حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے 300یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین پر ٹیکس کم کرسکتی ہے ، بجلی کے نرخ میں اضافے کی ایک وجہ روپے کی قدر گرنا بھی ہے، گردشی قرضے کا مسئلہ پرویز مشرف کے زمانے سے چلا آرہا ہے، ناقص گورننس کی وجہ سے ملک آج اس حال میں پہنچا ہے، پاپولیشن پلاننگ کی وزارت ہونے کے باوجود آبادی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ مغالطہ ہے کہ آبی وسائل سے بجلی سستی ہوگی، ڈیم بنانے میں بہت خرچہ ہوتا ہے سود بہت دینا پڑتا ہے، ونڈ پاور یا سولر سے سستی بجلی بنائی جاسکتی ہے مگر اس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ 2013ء سے 2018ء کے درمیان بجلی کی پیداوار دگنی ہوگئی مگر انڈسٹریل پروڈکشن ڈبل نہیں ہوئی، بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور جینکوز کی نجکاری کا عمل فوراً شروع کردینا چاہئے، 1994ء اور 2002ء کے جو کانٹریکٹس ختم ہوگئے انہیں ختم کریں تاکہ سستی بجلی بناسکیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن ملتوی ہوسکتا ہے، میں نہیں سمجھتا ن لیگ الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتیں الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہیں ،معاشی بحران کے حل کا راستہ فوری انتخابات میں ہے، فیصل کریم کنڈی نے کہا آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے ہی تمام باتیں کرنی ہیں تو پھر پارٹی ترجمانوں کی کیا ضرورت ہے ۔