سعودی عرب کا ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کیلئے چینی، فرانسیسی اور روسی پیشکشوں پرغور

27 اگست ، 2023

کراچی ( جنگ نیوز) امریکا سے حساس سیکورٹی معاہدے سے انحراف کی خواہش لیے سعودی عرب چین ،فرانس اور روس کی جانب سے اپنے ملک میں ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کی پیشکشوں پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب ایک مدت سے اپنے سول ایٹمی پلانٹ کی صلاحیت کے حصول کا خواہاں رہا ہے اور امریکا نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے عوض سعودی پروگرام میں کچھ معاونت بھی دی ہے۔اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیشرفت جوبائیڈن کی انتظامیہ کی ایک بڑی سفارتی فتح ہوگی لیکن دوسری جانب یہی واشنگٹن سعودی عرب کے ایک اہم مطالبے کو ماننے سے کترا رہا ہے کہ اسے اپنا یورینیم خود سے افزودہ نہ کرنے کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ امریکا کی جانب سے اس ٹیکنالوجی پر پابندیاں برقرار رکھنے پر اصرار کے بعد سعودی عرب اب متبادل پیشکشوں پر غور کر رہا ہے جو ایٹمی تنصیبات کے قیام کےلیے چین ، فرانس اور روس نے کر رکھی ہیں۔ سعودی عرب اس ضمن میں بہترین پیشکش کی بنیاد پر فیصلہ کریگا تاہم ایک سعودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ریاض امریکی ٹیکنالوجی کو ترجیح دے گا کیونکہ یہ نہ صرف بہتر ٹیکنالوجی ہے بلکہ امریکا خود بھی سعودی عرب کا قریبی شراکت دار ہے تاہم یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے اس کی شرائط کے باعث یہ امکان ختم ہوسکتا ہے۔ ادھر اسرائیلی حکومت اگرچہ سعود ی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی خواہاں ہے مگراس معاملے پر اسے بھی تحفظات ہیں اور متعدد اسرائیلی سیکورٹی آفیشلز او ر اپوزیشن رہنمائوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں لیکن چند ایک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ایسی صورتحال میں سعودی عرب چین سے رجوع کرسکتا ہے۔ چین فرانس اور روس ایسے ممالک ہیں جو ملک کے اندریورینیم افزودہ کرنے کی سعودی شرط پر عملدرآمد کےلیے تیار ہوں گے، اسی پس منظر میں جنوبی کوریا بھی ہے جس نے ایٹمی پلانٹ کی پیشکش کر رکھی ہے تاہم چونکہ وہ امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے اسلیے اسے امریکا کی برآمداتی پابندیوں کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔ کوریا نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ایک بڑا ایٹمی بجلی گھر قائم کرکے اسے آپریشنل کردیا ہے۔ سعودی عرب کو ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرکے دینے والوں مین فرانس کی ریاستی کمپنی ای ڈی ایف بھی شامل ہے۔ سعودی عرب سیکورٹی معاونت کےلیے امریکا پر بھاری انحصار کرتا ہے۔اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے رواں ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ان کے ملک نے سعودی عرب سے ایٹمی تعاون پر آئی اےای اے سے سفارشات طلب کی ہیں اور یہ ’ کہ ابھی ابھی کچھ راستے ہیں جن پر سفر کیاجاسکتا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اس ضمن میں چین اور فرانس سے ایٹمی پلانٹ حاصل کرنے پرغور کر رہا ہے۔ چین کی ریاستی ملکیت کی فرم چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے قطر اور متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کی تجویز دی ہے۔ سعودی حکام کو امید ہے کہ چین کی پیشکش کے بعد امریکا کی جوبائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کی نوزائیدہ ایٹمی صنعت کی مدد کےلیے اپنی شرائط نرم کرنے پر غور کرے گی ان شرائط میں یورینیم افزودہ نہ کرنے یا اپنی ملک میں موجود یورینم کے ذخائر کی کانکنی نہ کرنے جیسی شرائط شامل ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق چین کی جانب سے سعودی عرب سے ایسے تقاضے کیے جانے کا امکان نہیں ہے جن کا مقصودایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنا ہے۔چینی نیوکلیئر کارپوریشن سی این این سی اور چین کی وزارت خارجہ سمیت سعودی عرب نے رائٹرز کی جانب سے اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس دسمبر میں چینی صدر ژی جن پنگ کے دورے کے دوران 10 ارب ڈالر کی ایک سرمایہ کاری ڈیل ریاض میں طے پائی تھی۔ حالیہ برسوں کے دوران چین نے اپنی نیوکلیئر توانائی کی صنعت دیگر ممالک کو برآمدکرنے کا عندیہ دیا ہے۔ 2019 میں ایک سینئر چینی عہدیدار نے کہا کہ بیجنگ بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچرکے تحت 10 برس کے اندر دنیا بھر کے مختلف ممالک میں 30 ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔