مہنگائی میں کمی ،شرح سود برقرار،روپے کی قدر بڑھ گئی،دشوار مالی حالت میں بتدریج بہتری آرہی ہے،آنے والے مہینوں میں گرانی مزید کم ہوگی، اسٹیٹ بینک

15 ستمبر ، 2023

کراچی(جنگ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود22فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں شرح سود کو22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی میں مہنگائی38فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی تھی جبکہ اگست2023میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 27.4فیصد ہوئی۔مانٹیری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ جولائی اجلاس کے بعد چار عوامل کمیٹی کے لیے توجہ طلب رہے۔ پہلا یہ کہ سیٹلائٹ ڈیٹا زراعت کا منظر نامہ مثبت پیش کر رہا ہے، دوسرا خام تیل کی عالمی قیمتیں جو90ڈالر ہوچکی ہیں، تیسرا جولائی کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو چار مہینے مثبت رہنے کے بعد امپورٹ نرمی پر 80 کروڑ ڈالر منفی ہوا ہے۔ زرمبادلہ اور اجناس کی قیمتوں میں سٹے بازی سے مہنگائی کا منظر نامہ خراب ہوا تھا لیکن انتظامی اقدامات نتائج دے رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے عوام کو مہنگائی بتدریج کم ہونے کی خوش خبری دی ہے۔ دشوار مالی حالت میں بتدریج بہتری آرہی ہے، اسٹاک مارکیٹ سے اچھی خبریں ملی ہیں، ڈالر کی قدر میں کمی اور روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے اسی طرح اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے منعقد کیے گئے اجلاس میں سب سے زیادہ مہنگائی پر غور کیا گیا جو اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔مانیٹری پالیسی نے عوام کو یہ اچھی خبر دی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں کمی آئے گی، ماہ اکتوبر سے مہنگائی میں کمی کے واضح اثرات سامنے آنا شروع ہوں گے، ڈالر، چینی اور اجناس کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن سے معیشت پر مثبت اثر پڑا ہے، وہ مہنگائی جو مئی میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی وہ اگست تک کم ہوکر 27.4 فیصد تک آچکی ہے۔ اس لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو بڑھانے کے بجائے 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کم ہوگی اور مالی سال 2024-25 کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان آجائے گی، کمیٹی نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے، کمیٹی مہنگائی میں کمی کے لیے اقدامات کرے گی جسے حکومتی فیصلوں سے سپورٹ مل رہی ہے۔