کنٹریکٹ پر بھارتی ملازم ریگولرائزیشن کا مطالبہ نہیں کرسکتا،سپریم کورٹ

15 ستمبر ، 2023

اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قراردیا ہے کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ملازم ریگولرائزیشن کا مطالبہ نہیں کرسکتا، عدالت شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل دیر بالا کو ہدایت نہیں دے سکتی کہ اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامی کا اشتہار جاری کیا جائے تودرخواست گزارمعذور کوٹے پر بھرتی کنٹریکٹ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شیر ولی خان کو بھی اس پراسیس میں شامل کیا جائے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ یونیورسٹی درخواست گزارکے کنٹریکٹ کی شق 12کے تناظر میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورمسز جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے معذور کوٹے پر بھرتی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شیرولی خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں حکومت خیبر پختونخوا کو سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پشاور اوردیگر کے توسط سے فریق بنایا گیا تھا۔ دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سید رفاقت حسین شاہ بطور وکیل پیش ہوئے اور دلائل دیئے۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ ہمارے بہت سارے فیصلے آچکے ہیں کہ ایڈہاک ملازم ریگولرائزیشن کا مطالبہ نہیں کرسکتا، درخواست میں کوئی لیگل پوائنٹ ہی نہیں ، درخواست گزار مستقل ملازمت مانگ رہے ہیں اس کے لئے پراسیس میں جانا پڑے گا، کوئی اشتہار نہیں ، کوئی پراسیس نہیں ہو گا میں ایڈہاک ہوں مجھے مستقل کردیں۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل 27مئی 2014سے کنٹریکٹ پر معذور کوٹے پر خدمات انجام دے رہے ہیں ، اسی دوران دھڑادھڑ لوگوں کو بھرتی کر کے مستقل کیا جارہا ہے تاہم ان کے مئوکل کو مستقل نہیں کیا گیا، ان کے مئوکل کوکانوں سے سنائی نہیں دیتا ۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی استدعا ہے کہ عدالت یونیورسٹی انتظامیہ کو اسامی کااشتہارجاری کرنے کی ہدایت جاری کرے اور یہ ہدایت بھی جاری کرے کہ درخواست گزار کو بھی پراسیس میں شامل کیا جائے۔ جسٹس عائشہ اے ملک کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کہہ رہے ہیں مجھے ابتدائی ابتدائی تقرری کی بنیاد پر مستقل طور پر تعینات کیا جائے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگراشتہار آئے تو جاکرکمپیٹ کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال کااپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ یونیورسٹی کوضرورت ہو گی تووہ اشتہاردیں گے۔ جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کہہ سکتی ہے کہ ہمارااتنا ورک لوڈ ہی نہیں کہ اتنے لوگوں کو رکھیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت یونیورسٹی کو اشتہاردینے کی ہدایت جاری نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتے تاہم درخواست گزار ہماراآرڈردرخواست کے ساتھ لگائیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کوجاکر دکھائیں کہ یہ آپ کی ذمہ داری تو ہے۔