مائیگرین کے علاج میں بڑی پیش رفت ،نئی دوا جلدNHSمیں دستیاب ہوگی

15 ستمبر ، 2023

لندن (پی اے) مائیگرین کے علاج میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور اس تکلیف دہ مرض کے علاج کی نئی دوا جلد ہی این ایچ ایس میں دستیاب ہوگی جو زبان کے نیچے رکھتے ہی گھل جائے گی اور مائیگرین کے درد کو روک دے گی۔ ماہرین صحت کے مطابق انگلینڈ میں کم وبیش 13,000 افراد اچانک شروع ہونے والے اس تکلیف دہ درد سے نجات حاصل کرسکیں گے، یہ دوا ن لوگوں کو تجویز کی جائے گی، جو دوسری ادویات استعمال نہیں کرسکتے یا دوسری دوائیں جن کیلئے کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ مائیگرین سے متعلق ایک چیرٹی نے اس دوا کو خاص طورپر ان لوگوں کیلئے ایک نئی امید قرار دیا ہے جو دوسری دوائوں کے سائیڈ افیکٹس سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ مائیگرین کی شکایت 35 سے 45 سال عمر کے لوگوں عام طورپر ہوتی ہے اور مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ ہوتی ہے۔ انگلینڈ کیلئے نئی دوائوں کی منظوری دینے والے ادارے NICE نے، جس کے فیصلے عام طورپر ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں بھی تسلیم کئے جاتے ہیں، فائزر کمپنی کی تیار کردہ rimegepant نامی اس دوا کو ابتدائی طورپر صرف بالغ افراد کیلئے منظور کیا تھا لیکن اب اس کا کہنا ہے کہ یہ دوا، جسے Vydura بھی کہتے ہیں، مائیگرین کے درد کے علاج کیلئے انتہائی کم خرچ علاج ہے، طویل عرصے سے ایک ایسی دوا کا انتظار تھا، جو اس مرض کے کارگر علاج کے خواہاں تھے اور جو علاج کے موجودہ طریقوں کے سائیڈ افیکٹس سے پریشان تھے۔ NICE کی ہیلن نائٹ کا کہنا ہے کہ NICE کی تجویز کردہ یہ پہلی اور واحد دوا ہے، جو مائیگرین کے شدید درد کو رفع کرتا ہے اور جسے علاج کے طریقہ کار میں ایک تبدیلی قرار دیا جاسکتا ہے۔ مائیگرین ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو رابرٹ میوزک کا کہنا ہے کہ اس دوا کی منظوری مائیگرین کے دورانئے اور مائیگرین کے درد کو کم کرنے کے حوالے سے ایک نئی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کم وبیش 10 ملین افراد مائیگرین سے متاثر ہیں، جن میں سے کم وبیش ایک ملین افراد مائیگرین کے شدید حملوں کا شکار ہیں۔ مائیگرین کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ہر مہینے کم وبیش 15 دن پریشان کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مائیگرین دماغ کی غیر معمولی سرگرمی کا نتیجہ ہے، جس سے اعصابی سگنلز متاثر ہوتے ہیں لیکن اس کا اصل سبب معلوم نہیں ہے، تاہم اسے بہت سے لوگوں میں جینٹک قرار دیا جاتا ہے۔