اسلام آباد (نمائندہ جنگ)آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دیں جبکہ سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی ضمانت قبل از گرفتاری پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کر لی، جج ابوالحسنات نےاستفسار کیا کہ جب سائفر موصول ہوا تو پھر کدھر گیا؟ جس پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ دستاویزات سنبھالنا وزیراعظم نہیں پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہے،جج ابوالحسنات نے کے ان ریمارکس پر کیا آپ مجھے سائفردکھانا چاہتے ہیں؟عدالت میں قہقہے لگ گئے انہوں نے کہا کہ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو سیکشن 3 اے لاگو ہوتی ہے، سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔جمعرات کو سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی تو اسد عمر اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر ، خالد یوسف ، سردار مصروف بھی عدالت میں موجود تھے۔ سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ دیگر سپیشل پراسیکیوٹرز کو سپریم کورٹ جانا ہے ، سماعت میں ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کیا جائے۔ اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جب یہ لوگ مصروف ہوتے ہیں تو ہم عدالت میں موجود ہوتے ہیں ، یہ فری ہوں گے اس وقت ہم ہائی کورٹ میں مصروف ہوں گے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراسیکیوشن جیسے ہی فری ہو گی جوڈیشل کمپلیکس پہنچ جائے گی۔ فاضل جج نے کہا کہ دونوں فریقین کی موجودگی میں ہی کیس کی سماعت ہو گی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہر سماعت پر پراسیکیوشن کوئی نہ کوئی بہانہ کر لیتی ہے ، مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے کیونکہ ہم نے بھی ہائی کورٹ جانا ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ سائفرکیس کی درخواست ضمانت پر سماعت تو آج ہو گی ، یہ سن لیں۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ایک نہیں تین تین سپیشل پراسیکیوٹرز سائفرکیس میں ہیں۔ سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ کیا ہم سپریم کورٹ چھوڑ دیں ؟ یہ ہائی کورٹ چھوڑ نہیں رہے اور ہمیں سپریم کورٹ چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں ، سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جھوٹ کیوں بولیں گے؟ اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ آج کی ہم تاریخ نہیں مانگ رہے کچھ وقت مانگ رہے ہیں ۔ فاضل جج نے کہا کہ آپ کے پاس آدھا گھنٹہ ہے آ جائیں ، دس بجے کیس شروع ہو جائے گا۔ ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے ، کچھ وقت دے دیں ، سپریم کورٹ میں یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ٹرائل کورٹ میں مصروف ہیں۔ فاضل جج نے کہا کہ اگر یہ کہیں ہم نہیں آ سکتے اس کے باوجود بھی سنوں گا ، اگر آج ایف آئی اے عدالتی معاونت نہیں کرے گی تو اس کے باوجود میں فیصلہ کروں گا۔ آپ ایسا کریں کوئی ایک پراسیکیوٹر آجائے پھر باقی آ جائیں۔ ایف آئی اے نے کہا کہ تین پراسیکیوٹرز ابھی مصروف ہیں ، کوئی مناسب وقت مقرر کردیں۔ فاضل جج نے کہا کہ میں چاہتا ہوں پی ٹی آئی وکلا اور اسپیشل پراسیکیوٹرز دلائل دیں ، آج پراسیکیوشن دلائل دے نہ دے درخواست ضمانت پر فیصلہ میں محفوظ کر لوں گا ، سوا دس بجے کا وقت مقرر کرتا ہوں۔ عدالت نے سوا دس بجے پراسکیوٹر کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خانم بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت پہنچ گئیں۔ وکیل علی اعجاز بٹر نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں کوئی کینٹین نہیں ہے ، پانی بھی نہیں ملتا ، باہر سے خرید کر لانا پڑتا ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ میں تو خود اپنے پیسوں سے 70 روپے کی چائے کا کپ منگواتا ہوں ، آپ سب کو چائے پلا دوں گا لیکن اس کو 70 سے ضرب دینا ہو گا پھر۔ جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے لگ گئے اور سماعت سوا دس بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اسد عمر کے وکیل بابر اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میرا پراسیکوشن سے ایک سادہ سا سوال ہے ، اس کا جواب آ جائے تو دلائل شروع کروں گا ، میرے موکل کے خلاف اب تک کیا انوسٹی گیشن ہوئی؟ فاضل جج نے پراسیکیوشن سے استفسار کیا کہ جی بتائیں اب تک کیا تفتیش ہوئی؟ ایف آئی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ عبوری ضمانت میں ملزم نے تفتیش جوائن کرنا ہوتی ہے ، انہوں نے تفتیش جوائن نہیں کی ، انہیں خود تفتیشی افسر کے پاس آنا چاہئے تھا۔ فاضل جج نے ایف آئی اے حکام سے کہا کہ یہ تو آپ کو بتا رہے تھے کہ میں تفتیش جوائن کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ابھی اسد عمر کے کردار کے حوالے سے ہم نے طے کرنا ہے ، کچھ وقت دیا جائے ، یہ شامل تفتیش ہو جائیں پھر عدالت کو آگاہ کریں گے ۔ بابر اعوان نے کہا کہ یہ بلا لیں ، اسد عمر شامل تفتیش ہونے کے لئے تیار ہیں ، پہلا ملزم ہے جو کہتا ہے میں شامل تفتیش ہونے کے لئے تیار ہوں۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ ملزم شامل تفتیش ہوتے ہیں ، تفتیشی کسی کے پیچھے نہیں جاتے ، یہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے، اگر یہ شامل تفتیش ہوتے تو ہو سکتا ہے یہ بے گناہ قرار دئیے جاتے۔ فاضل جج نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موقع تھا کیوں نہیں کیا؟ ایف آئی آر میں تو ان کا نام بھی واضح نہیں ہے۔ بابر اعوان ایڈووکیٹ نے تفتیشی سے کہا کہ آپ مجھے بلائیں تو میں آ جاوں گا۔ پراسکیوشن کے معاون وکیل نے کہا کہ اسدعمر کی حد تک تفتیش مکمل نہیں ہوئی ، درخواست ضمانت پر دلائل نہیں بنتے۔ عدالت نے کہا کہ قانون میں میرٹ کو دیکھا جائے گا ، عدالت نے آپ کی خواہشات پر نہیں چلنا ، جو اسد عمر سے سوال کرنا ہے کمرہ عدالت میں بٹھا کر کر لیں ، صاف سی بات ہے جو حق ہوگا اسے ملے گا جو نہیں ہوگا میں نہیں دوں گا ، جلدی بتائیں کیا کرنا ہے؟ میں نے فیصلہ کرنا ہے ، اسدعمر، چیئرمین پی ٹی آئی ، شاہ محمود قریشی کی درخواستوں پر فیصلہ آج کر کے رہوں گا ، جتنی مرضی درخواستیں دینی ہیں دے دیں ، تمام درخواستوں پر فیصلے آج سناوں گا۔
اسلام آباد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے...
کراچی امریکا کی ایران پر حملے کیلئے ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنیکی تیاری، 10ٹن وزنی بم میں 8.5ٹن دھماکا خیز...
کوئٹہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیو وائرس کی موجودگی جانچنے...
کوئٹہ کیچ میں سیکورٹی فورسز اور فتنہ الہندوستان کے رومیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا...
کوئٹہگورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے...
اسلام آباد کراچی سمیت سملک بھر میں بجلی 2 روپے 56بپیے فی یونٹ مہنگی کر دی گی مہنگی بجلی ستمبر کے لیے فیول...
پشاورپشاور کے دیر کالونی میں منہدم ہونے والے نجی اسکول کے مالک خان محمدنے بتایا ہے کہ مطابق تعلیمی ادارے کی...
کراچی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر عوام تقسیم، 80 فیصد پاکستانی مذاکرات کے حق میں، صوبے میں 42فیصد شہری...