حلقہ بندیاں ضرور کرائیں انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، پیپلز پارٹی

15 ستمبر ، 2023

لاہور(نمائندہ جنگ /مانیٹرنگ )پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اورسابق صدر آصف زرداری کی زیر صدارت جمعرات کو لاہورمیں ہوا‘اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیاکہ نگراں کابینہ میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شمولیت پر پارٹی قیادت احتجاج کرے ۔اجلاس کے بعد شازیہ مری اور فیصل کریم کنڈی ودیگرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا کہ پیپلزپارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی ‘ہمیں دیوارسے لگایاجارہاہے ‘ہماری کوئی ضد نہیں ہے‘حلقہ بندیاں کروانی ہے توضرور کروائیں مگر الیکشن کا انعقاد بروقت یقینی بنایا جائے ‘ پیپلزپارٹی کسی صوبے میں کمزور نہیں‘ن لیگ جوچاہے الزام تراشی کرے پارٹی فیصلہ کریگی کہ ان کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے ‘صدرعلوی وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے ہیں ‘ہمیں ہر صورت انتخابات چاہئیں چاہے اُس کا اعلان کوئی بھی کرے ‘ ماہرین کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے ‘تاریخ کون دیتا ہے یہ پیپلز پارٹی کی بحث نہیں ہے‘ ہمیںدیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔سی ای سی کی میٹنگ آج بھی جاری رہے گی‘اُس کے بعد اعلامیہ جاری کریں گے۔ شازیہ مری نے کہا کہ انتخابات کے معاملے پر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، صدر مملکت کے خط کے بعد مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے، دیگر صوبوں میں جب ٹرانسفر پوسٹنگ اور ترقیاتی کاموں پر پابندی نہیں تو پھر سندھ میں کیوں عائد کی گئی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نگراں حکومت کچھ معاملات میں جانبداری کا مظاہرہ بھی کررہی ہے‘پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔شازیہ مری اور فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ الیکشن ایک دن کرانے کے معاملے پر اتفاق ہوگیا تھا مگر پھر پاکستان تحریک انصاف کا لیڈر اس سے مکر گیا۔انہوں نے کہا کہ ابھی سی ای سی اس بات پر بھی غور کرے گی کہ آئینی طور پر صدر مملکت الیکشن کی تاریخ دینے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ صدر واضح مؤقف نہیں رکھتے اور وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں ۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ تحفظات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا وفد الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گا اور نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جائے گا۔پی پی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ ن الزام تراشی کرتی ہے اُن کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے پارٹی قیادت طے کرے گی کہ یہ کس سطح پر ہونا چاہیے، ہمیں جب لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے گی تب منشور پر بات کریں گے۔فیصل کریم کنڈی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لطیف کھوسہ کو پارٹی سے نہیں نکالا البتہ اُن سے جواب ضرور مانگا ہے۔