کراچی (نمائندہ جنگ) اسٹیٹ بینک کا شرح سود22فیصدپر برقرار رکھنے کا اعلان‘مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان ہے‘ ستمبر کے دوران مہنگائی میں نمایاں اضافے کا امکان ہے تاہم اکتوبر میں مہنگائی میں کمی آئے گی اور اس کے بعد سے اس میں کمی کا سلسلہ برقرار رہے گا‘جاری کھاتے کا خسارہ گذشتہ چار ماہ فاضل رہنے کے بعد جولائی میں خسارے سے دوچار ہوا‘ پیٹرولیم مصنوعات، کھاد اور سیمنٹ جیسے اہم خام مال کی فروخت میں معتدل اضافے کے ساتھ درآمدی حجم میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔زرعی شعبے کے امکانات بہتر ہو چکے ہیں۔ ایف بی آرریونیومیں 27.2 فیصد اضافہ ہوا‘ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھانا، صرف انتہائی غریب طبقے کو بہدف زرِ اعانت دینا، اور نجکاری یا اصلاحات کر کے سرکاری شعبے کے اداروں کا خسارہ کم کرنا۔ ان تین اقدامات سےوسط مدت میں مہنگائی کم کرکے طے شدہ حد تک لانے اور پائیدار معاشی نمو کے حصول میں مدد ملے گی۔ رواں سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی کمی کے راستے پر گامزن رہے گی‘گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا جمعرات کو اجلاس ہوا ‘مہنگائی مئی 2023ء میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے گر کر اگست 2023ء میں 27.4 فیصد پر آگئی۔ اگرچہ تیل کی عالمی قیمتیں حال ہی میں بڑھی ہیں اور توانائی کی سرکاری قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے صارفین کو منتقل کی جارہی ہیں تاہم تخمینے کے مطابق مہنگائی کمی کے راستے پر گامزن رہے گی خصوصاً اس سال کی دوسری ششماہی سے۔اس طرح آئندہ حقیقی شرح سود مثبت دائرے میں برقرار رہے گی۔بہتر زرعی پیداوار اور زرمبادلہ اور اجناس کی منڈیوں میں سٹے بازی کی سرگرمیوں کے خلاف حالیہ انتظامی اقدامات کی وجہ سے رسد کی رکاوٹوں میں متوقع کمی سے بھی مہنگائی کے اس منظرنامے کو تقویت ملے گی۔کپاس کی آمد کے تازہ ترین اعداد و شمار، خام مال کے بہتر حالات اور دیگر فصلوں کے حوالے سے بہتری کی نشاندہی کرنے والے سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر زراعت کا منظرنامہ بہتر ہوا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ گذشتہ چار ماہ فاضل رہنے کے بعد جولائی میں خسارے سے دوچار ہوا‘لازمی غذائی اجناس کی دستیابی بہتر بنانے اور زرمبادلہ کی مارکیٹ میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی غرض سے حالیہ انتظامی اور ضوابطی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ کے مابین فرق کم کرنے میں مدد ملی ہے۔تازہ ترین دستیاب اظہاریے معاشی سرگرمی میں کچھ بہتری کے عکاس ہیں۔سیلاب سے متعلق پچھلے خدشات زائل ہوگئےہیں اور کپاس کی آمد گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ کمیٹی نے تخمینہ لگایا کہ سخت زری پالیسی کے ظاہر ہونے والے اثرات اور متوقع مالیاتی یکجائی کی وجہ سے ملکی طلب بھی قابو میں رہے گی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2023ء میں جاری کھاتے کے توازن میں 809 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔ زری پالیسی کمیٹی سمجھتی ہے کہ مجموعی درآمدات قابو میں رہنے کی توقع ہے۔ چاول کی موافق قیمتیں اور دستیاب فاضل پیداوار برآمدی امکانات کے لیے خوش آئند ہے۔ایکس چینج کمپنیوں سے متعلق حالیہ ساختی اصلاحات سے ان کے نظم و نسق کی ساخت مضبوط ہو گی اور مارکیٹ کے کام میں بہتری آ جائے گی۔مزید اہم چیز یہ ہے کہ مالیاتی یکجائی کے حصول کے لیے تین اقدامات درکار ہیں: یکم ستمبر تک کے تازہ ترین اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ زرِ وسیع (ایم ٹو) کی نمو جو آخر جون 2023ء تک 14.2 فیصد تھی وہ سال بسال کم ہو کر 13.6 فیصد تک آ چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ نجی شعبے کو قرضے میں نمایاں کمی ہے۔ ایم ٹو کی طرح زرِ بنیاد (reserve money) میں نمو بھی مالی سال 24ء میں اب تک کم ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، تازہ ترین سرویز کے مطابق، صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مستقبل قریب میں مہنگائی کی توقعات بڑھ گئی ہیں، جبکہ اس سے قبل ان میں کمی کا رجحان تھا۔ زری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ستمبر کے دوران مہنگائی میں نمایاں اضافے کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ اساسی اثر اور توانائی کی قیمتوں میں ردوبدل ہے۔
اسلام آباد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے...
کراچی امریکا کی ایران پر حملے کیلئے ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنیکی تیاری، 10ٹن وزنی بم میں 8.5ٹن دھماکا خیز...
کوئٹہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیو وائرس کی موجودگی جانچنے...
کوئٹہ کیچ میں سیکورٹی فورسز اور فتنہ الہندوستان کے رومیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا...
کوئٹہگورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے...
اسلام آباد کراچی سمیت سملک بھر میں بجلی 2 روپے 56بپیے فی یونٹ مہنگی کر دی گی مہنگی بجلی ستمبر کے لیے فیول...
پشاورپشاور کے دیر کالونی میں منہدم ہونے والے نجی اسکول کے مالک خان محمدنے بتایا ہے کہ مطابق تعلیمی ادارے کی...
کراچی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر عوام تقسیم، 80 فیصد پاکستانی مذاکرات کے حق میں، صوبے میں 42فیصد شہری...