مودی کا ایک اور مسلم دشمن اقدام جنوری میں رام مندر کھولنے کا فیصلہ

15 ستمبر ، 2023

کراچی(نیوز ڈیسک)بھارت میں جیسے جیسے آئندہ عام انتخابات قریب آرہے ہیں، برسراقتدار انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کے مسلم دشمن اقدامات میں اضافہ ہورہا،1992 میں ایودھیا میں مشتعل ہندو ہجوم کی جانب سے مسمار کی گئی تاریخی بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے رام مندر کو جنوری میں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا پہلا مرحلہ دسمبر میں مکمل ہو جائے گا جسے آئندہ سال جنوری میں عقیدت مندوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نریپیندر مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ نریندر مودی کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مندر کا گراؤنڈ فلوررواں برس دسمبر میں مکمل ہو جائے گا اوراس کے مکمل ہو نے اورنریندرمودی کے دورے کے بعد ہم عقیدت مندوں کو یہاں آنے کی اجازت دے دیں گے۔بھارت کے شہر ایودھیا میں 16ویں صدی کی تاریخی بابر مسجد کی جگہ پر تعمیر ہونے والا مندر برسوں تک متنازع رہا کیونکہ اس جگہ پرہندو اور مسلمان دونوں دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ کئی دہائیوں کے تنازعے کے بعد سپریم کورٹ نے 2019 میں ہندووں کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی اجازت دی ۔برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1992 میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم کو متحرک کر کے مسجد کو نقصان پہنچایا تھا۔ بی جے پی کا دعوی تھا کہ یہ مسجد ’رام کی جائے پیدائش‘ پر بنی تھی۔مسجد کی تباہی نے پورے ملک میں تشدد بھڑکا دیا تھا جس میں دو ہزار لوگ مارے گئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔گذشتہ ماہ رام مندر ٹرسٹ نے کہا تھا کہ ایودھیا میں مندر کی افتتاحی تقریبات آئندہ سال جنوری میں ہوں گی اور تین روز تک جاری رہیں گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس سے قبل ٹرسٹ ممبرز نے کہا تھا کہ اس ایونٹ کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو خصوصی دعوت نامہ بھیجا جائے گا۔