ملک کو قرضوں کے جان لیوا بوجھ سے نجات دلانے اور پائیدار معاشی بحالی کی راہ پر ڈالنے کیلئے بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت اور عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے اس مقصد کی خاطر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی اور اس کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، قطر اور کویت جیسے دوست ملکوں کو زراعت، معدنیات، توانائی اور آئی ٹی وغیرہ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جس پر ذرائع کے مطابق ان حکومتوں کا ردعمل نہایت مثبت اور حوصلہ افزا رہا۔دوست ممالک سے بات چیت کی روشنی میں آئندہ 5سال کی مدت کے دوران ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کے حجم کا تخمینہ کم وبیش سو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ملک میں اب تک بیرونی سرمایہ کاروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور درجنوں اداروں سے کلیئرنس حاصل کرنی ہوتی تھی جس میں مہینوں نہیں بسا اوقات برسوں کا وقت صرف ہوتا تھا۔ تاہم خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت اس عمل کو آخری حد تک آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کیلئے تمام مراحل کو ایک ہی چھت کے نیچے چند دنوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سمت میں مسلسل عملی کارروائی جاری ہے۔ اس ضمن میں تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو چھ ماہ کا بزنس ویزا چوبیس گھنٹوں میں جاری کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز 103 ملکوں کیلئے بزنس، انویسٹر اور ورک ویزا پالیسی میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ سرمایہ کاری سہولت کونسل کی سفارش پر پاکستانی مشن پانچ سال کیلئے بزنس ویزا بھی چوبیس گھنٹوں میں جاری کرنے کے پابند ہوں گے۔ ایک سال کا شارٹ ٹرم انویسٹر ویزا بھی چوبیس گھنٹوں میں جاری ہوگا۔ سرمایہ کاری کونسل کی کارکردگی کی یہ رفتار اگرچہ بہت اطمینان بخش ہے لیکن اس منصوبے کے حوالے سے اعتماد کی فضا اسی وقت قائم ہوگی جب بیرونی سرمایہ کاری کا سلسلہ عملاً شروع ہوجائے لہٰذا پوری کوشش کی جانی چاہئے اس سمت میں جلد از جلد پیش رفت ہوتی نظر آئے۔
تاریخ لکھے گی کہ یہود و نصارہ کی امت مسلمہ کے خلاف جنگ میں کون فتحیاب ہوا اور رب العزت نے کس کے نصیب میں عزت...
ہوں ایران کے آئندہ دن یا امر یکہ کا مستقبلدونوں ہی سے وابستہ ہےپوری د نیا کا مستقبل
صدر……اقبال خورشیدموصوف روز درجنوں ٹویٹ کیا کرتے تھے۔ صدر بننے کے بعد بھی عادت برقرار رہی۔ایک رات ٹویٹ...
پاکستان کے معاشی نظام کا ایک بڑا مسئلہ غیر دستاویزی معیشت اور نقد لین دین پر حد سے زیادہ انحصار ہے جو کہ...
12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونیوالے امریکہ ایران مذاکرات کے پہلے دور میں ناکامی کے بعد ایرانی وفد کی واپسی کے...
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ معاہدات، مفاہمتیں اور جنگ بندیوں کی شرائط ہمیشہ مساوی قوتوں...
جہالت کا علاج موجود ہے مگر انسان کے ’ڈ نگر پن‘ کا کوئی علاج نہیں۔ جب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بجنا...
میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ آج کے بعد میں جنگ کے موضوع پر بالکل نہیں لکھو ں گا۔ کل گاڑی کے ٹائروں کی ہوا چیک کروانی...